ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش، پنجاب حکومت نے وفاق کو خط ارسال کر دیا

فہرستِ مضامین

پنجاب کے محکمہ داخلہ نے وفاقی حکومت کو ایک اہم مراسلہ ارسال کرتے ہوئے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ جماعت کی سرگرمیاں عوامی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے کے مطابق ٹی ایل پی پر الزام ہے کہ وہ بارہا عوامی جذبات کو مشتعل کر کے ملک میں بدامنی کا باعث بنی ہے۔ جماعت کی قیادت کو پولیس اہلکاروں، عام شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹی ایل پی گزشتہ آٹھ برسوں سے پرتشدد مظاہروں میں شامل رہی ہے اور اس کے خلاف ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو انسانی جان و مال کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جماعت نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی رہی ہے بلکہ مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر نفرت انگیزی کے الزامات کا بھی سامنا کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش منظور کر لی ہے۔ اس سفارش میں جماعت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے پہلے شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 11-B کے تحت تجویز کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں آئی جی پنجاب کی جانب سے 15 اکتوبر 2025 کو رپورٹ جبکہ سی ٹی ڈی کی رپورٹ 14 اکتوبر کو وفاقی حکومت کو بھیجی جا چکی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں