پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار فیصل قریشی نے بھارت میں پاکستانی ڈراموں پر پابندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت سے پاکستان کے بارے میں بھارتی عوام کی سوچ تبدیل ہو رہی تھی، جس کے باعث ان ڈراموں پر پابندی عائد کی گئی۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران فیصل قریشی نے پاکستانی ڈراموں کی عالمی مقبولیت اور بھارتی ناظرین میں ان کی پسندیدگی سے متعلق اظہارِ خیال کیا۔
بھارت میں پاکستانی ڈراموں پر پابندی کے سوال پر اداکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں میں لوگوں کو پاکستان کا ایک مختلف رخ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ ان کے مطابق، پاکستانی ڈراموں سے بھارتی ناظرین کو اندازہ ہو رہا تھا کہ پاکستانی پڑھے لکھے، جدید سوچ رکھنے والے اور صبر و تحمل کے حامل لوگ ہیں۔
فیصل قریشی نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ڈراموں کی وجہ سے پاکستان کے خلاف بھارتی حکومت کا بیانیہ متاثر ہو رہا تھا، اسی لیے ان ڈراموں پر پابندی لگائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو پابندی لگانے کا موقع نہیں مل رہا تھا، لیکن موقع ملتے ہی پاکستانی ڈراموں کی نشریات روک دی گئیں۔
اداکار نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستانی ڈراموں پر پابندی کے بعد بھارتی صارفین کی جانب سے وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے استعمال میں اضافہ ہوا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے یہ سہولت حاصل کی تاکہ پاکستانی مواد تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
فیصل قریشی کے مطابق، اب بھارتی ناظرین بھی فلموں کے ذریعے پھیلائے جانے والے مخصوص ایجنڈے اور نفرت انگیز بیانیے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی ڈرامے اپنی کہانیوں، اداکاری اور سماجی موضوعات کے باعث پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہیں۔ تاہم، بھارت میں ان پر پابندی کی وجوہات سے متعلق فیصل قریشی کے یہ بیانات ان کا ذاتی مؤقف ہیں۔