پاکستان اور ایرانی فوجی قیادت کا سرحدی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ عزم

فہرستِ مضامین

اسلام آباد ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایران کے ہم منصب میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے منگل کے روز ایک ٹیلیفونک گفتگو میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اور ایران اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ سرحدی علاقوں میں امن و خوشحالی کے لیے دہشت گردی کا مؤثر خاتمہ ناگزیر ہے۔

تقریباً 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد کو طویل عرصے سے کالعدم دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ جیش العدل اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی طرف سے خطرات لاحق ہیں، ان علاقوں میں دہشت گردی، اسمگلنگ اور ایک دوسرے پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات جیسے مسائل سے دونوں ممالک کے تعلقات اکثر کشیدہ رہے ہیں۔

فوجی سربراہاں کی گفتگو

ایرانی سفارتخانے کے ایک بیان کے مطابق دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مشترکہ سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ( آئی آر این اے کے مطابق ایرانی آرمی چیف جنرل موسوی نے کہا کہ ایران دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیار ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دہشت گرد گروہوں کی سرحد پار سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی سرحدوں کی سیکیورٹی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کو چاہیے کہ وہ اپنی مشترکہ سرحد کو دوستی، بھائی چارے اور اقتصادی ترقی کی علامت میں تبدیل کریں۔

انہوں نے ایران کے سیستان و بلوچستان صوبے میں حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین کے لیے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

انسانی ہمدری اور تعاون

جنرل موسوی نے پاکستان میں حالیہ سیلاب زدگان کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا اور خاص طور پر پاکستان کی جانب سے ایران کی اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران حمایت کو سراہا۔

سیاسی قیادت کا موقف

ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے رواں ماہ پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقات میں کہا تھا کہ معاشی اور تجارتی ترقی کا حصول امن، استحکام اور سکون سے جڑا ہوا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں سے لاحق خطرات کے پیش نظر دونوں ممالک کو سرحدی سیکیورٹی بڑھانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

اس موقع پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی کو دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کے لیے بنیادی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی رعایت نہیں، اگر ایران میں کوئی دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں کوئی متاثر ہوا ہو۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں