ڈھاکا/بنگلادیش ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) اتوار کے روز پاکستان اور بنگلہ دیش نے تعاون کے مختلف شعبوں میں چھ معاہدوں پر دستخط کیے، جب نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے تعلقات میں بہتری کی بنیاد پر ڈھاکہ کا تاریخی دورہ کیا۔
گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسلام آباد اور ڈھاکہ کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، جس کے اثرات تجارتی اور دو طرفہ تعلقات میں نمایاں طور پر دیکھے گئے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار دو روزہ دورے پر بنگلادیش پھنچے، جو کہ 13 سال بعد کسی بھ پاکستانی وزیر خارجہ کا بنگلادیش کا پہلا دورہ ہے۔
اسحاق ڈار نے بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات کی،ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پرانے تعلقات کی بحالی، نوجوانوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے، روابط میں بہتری، اور تجارت و معاشی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ نے وزیراعظم کی جانب سے چیف ایڈوائزر کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے ڈھاکہ میں اپنی مصروفیات اور اپنے دورے کے اہم نتائج سے بھی آگاہ کیا۔ بہترین انتظامات اور پرتپاک مہمان نوازی پر چیف ایڈوائزر کا شکریہ ادا کیا۔
ڈھاکا میں اہم معاہدے
ڈھاکہ میں اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے فارن ایڈوائزر توحید حسین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں چھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ شفقت علی خان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان معاہدوں میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا معاہدہ اور تجارت پر مشترکہ ورکنگ گروپ سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ( ایم او یو شامل) ہیں
پاکستان اور بنگلہ دیش نے گزشتہ ماہ اتفاق کیا تھا کہ دونوں ممالک کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ویزا سے استثنا دیا جائے گا، جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا۔
دونوں ممالک کی فارن سروس اکیڈمیوں کے درمیان ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے، اور اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی ) اور بنگلہ دیش سانگباد سنگستھا ( بی ایس ایس ) کے درمیان میڈیا تعاون بڑھانے کے لیے بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
تعلیمی شعبے میں، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے، اور ایک ثقافتی تبادلہ پروگرام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدے تجارت و معیشت، سفارتکاروں کی تربیت، تعلیمی تبادلوں، میڈیا اور ثقافتی تعاون میں دو طرفہ اشتراک کو ادارہ جاتی شکل دیں گے اور مزید مضبوط بنائیں گے۔
اسحاق ڈار کی ملاقاتیں
بنگلادیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق مطابق، اسحاق ڈار اور بنگلادیش کے مشیر خارجہ امور توحید حسین نے سب سے پہلے انفرادی ملاقات کی، اس کے بعد دونوں نے وفود کی سطح پر پین پیسیفک سونارگاؤں ہوٹل ڈھاکہ میں باضابطہ بات چیت کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، بات چیت خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی، دونوں فریقوں نے تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے اپنی سیاسی ملاقاتوں کے سلسلے میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
نائب وزیر اعظم نے وزیراعظم شہباز شریف اور اپنی طرف سے جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جو حال ہی میں دل کے آپریشن سے گزرے ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سیاست، تعلیم اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی زندگی بھر کی مثبت خدمات کو سراہا۔
تجارتی اور اقتصادی حکام سے ملاقات
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر تجارت جام کمال خان نے بنگلہ دیشی کامرس ایڈوائزر شیخ بشیردین سے ناشتہ پر ملاقات کی، جن کے ہمراہ مختلف مالیاتی اور تجارتی حکام بھی تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر تجارت میں اضافہ اور رابطہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا۔
دفتر خارجہ نے اسحاق ڈار کے دورہ بنگلادیش کو تاریخی قرار دیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ترجمان دفتر خارجہ نے لکھا کہ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ تقریباً 13 سال بعد کوئی پاکستانی وزیرِ خارجہ بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کر رہا ہے۔
مشرقی پاکستان بننے اور شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد پاکستان اور بنگلادیش کے درمیاں تعلقات سرد مہری کا شکار رہے، تاہم شیخ حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیاں ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آخری مرتبہ نومبر 2012 میں اُس وقت کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے بنگلہ دیش کا چھ گھنٹے کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو اسلام آباد میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا تھا۔