عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو تقریباً 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ اگلے سال یہ شرح بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پاکستانی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے، آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، برآمدات بڑھانے کے لیے صرف ٹیرف اصلاحات کافی نہیں، حکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے میں برآمدات بڑھانے کو ترجیح دے۔
رپورٹ میں غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان بتایا گیا ہے اور غربت میں کمی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے معاشی ترقی میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 16 لاکھ نوجوان روزگار کے لیے مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر زور دیا ہے، جن میں ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانا اور سرکاری شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔
رپورٹ میں برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو متعدد مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، جنہیں دور کرنا ملکی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔