پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا امکان کم، درآمدی منصوبہ مہنگائی کی دیوار سے ٹکرا گیا

فہرستِ مضامین

پاکستان میں چینی کی قیمتیں ممکنہ طور پر بلند ہی رہیں گی، حالانکہ حکومت نے 5 لاکھ ٹن ریفائنڈ چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ملکی فراہمی کو مستحکم کیا جا سکے اور قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم، حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ عالمی منڈی کے نرخ اور ٹیکس اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

18  جون 2025 کو پاکستان شوگر  ملز ایسوسی ایشن (PSMA) نے وزارت صنعت و پیداوار کو ایک بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ بندرگاہ کراچی پر ریفائنڈ چینی کی بنیادی لاگت 153 روپے فی کلو ہے (بغیر کسی ٹیکس کے)۔ سیلز ٹیکس شامل ہونے کے بعد قیمت 181 روپے فی کلو ہو جاتی ہے، اور تمام ٹیکس و ڈیوٹیز شامل کرنے کے بعد قیمت 249 روپے فی کلو تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسری طرف، پاکستان میں چینی کی قیمتیں حکومتی مقرر کردہ ریٹ 168 روپے فی کلو سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، اہم شہروں میں چینی کی اوسط قیمت 175 سے 188.7 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ اسلام آباد میں سب سے زیادہ اوسط قیمت 188.7 روپے، راولپنڈی میں 186.31 روپے، اور خضدار میں 185 روپے ریکارڈ کی گئی۔ کراچی، لاہور، اور حیدرآباد میں بھی قیمتیں بالترتیب 182.84، 180، اور 177.32 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔

یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں پر حکومتی کنٹرول غیر مؤثر ہے اور صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بدستور بڑھ رہا ہے۔

مزید مشکلات اس وقت بڑھتی ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت سبسڈی دینے یا ٹیکس میں چھوٹ دینے سے قاصر ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت کوئی مالی ریلیف ممکن نہیں۔

پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوامی غصے کو بھی بڑھا دیا ہے۔ کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن پنجاب نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے صوبے بھر میں چینی کی فروخت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے عوام سے چینی کا بائیکاٹ کرنے اور گڑ یا شکر جیسے متبادل استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق، کھلی منڈی میں شہری علاقوں میں چینی کی قیمت 190 روپے جبکہ دیہی علاقوں میں 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہے۔

چاہے چینی درآمد کی جائے یا نہ، موجودہ حالات میں چینی کی بلند قیمتوں پر قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے، اور پاکستان میں چینی کی قیمتیں فی الحال نیچے آنے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں