پاکستان میں گلیشیئرز کا تحفظ: موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی نئی پالیسی فریم ورک تیار

فہرستِ مضامین

white and blue ice on body of water during daytime

پاکستان میں گلیشیئرز کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے، جس کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کی اہم پیش رفت

وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اس فریم ورک کو مشاورت کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ پالیسی کے تحت گلیشیئرز سے متعلقہ فنڈنگ کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، جس کے بعد اس پالیسی کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی۔

پاکستان کے گلیشیئرز کی جغرافیائی اہمیت

ابتدائی مسودے کے مطابق، پاکستان میں گلیشیئرز کا تحفظ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، دیر، سوات اور چترال جیسے پہاڑی علاقوں میں موجود گلیشیئرز کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان گلیشیئرز سے پگھلنے والی برف دریائے سندھ کے بہاؤ کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتی ہے، جو 26 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی، زراعت اور غذائی ضروریات کا انحصار ہے۔

ماحولیاتی توازن اور آبی سلامتی

پالیسی فریم ورک میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، پانی، خوراک اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر ہم آہنگ اور مربوط حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ہم آہنگی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شرکت لازم قرار دی گئی ہے۔

اجتماعی کاوشیں اور لچکدار معیشت

فریم ورک میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مختلف شعبہ جات کے مابین روابط اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے بغیر گلیشیئرز کا مؤثر تحفظ ممکن نہیں۔ ہم آہنگ پالیسیوں سے نہ صرف کمزور طبقات کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ موسمیاتی لچک (Climate Resilience) میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں