پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں بار کونسلز کے انتخابات کا سلسلہ جاری ہے، پولنک کا عمل شام 5 تک جاری رہے گا۔
سندھ بار کونسل کی 33 نشستوں کے لیے پولنگ جاری ہے۔ صوبے کے 27 ہزار 300 وکلا پانچ سال کے لیے اپنے نمائندے منتخب کریں گے، جن میں خواتین وکلا کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔
صوبائی وزیر قانون وداخلہ ضیاءالحسن لنجار بےنظیرآباد کی نشست پر امیدوار ہیں۔ کراچی کی 16 نشستوں کے لیے 15 ہزار وکلا ووٹ کاسٹ کریں گے، اور سٹی کورٹ کراچی میں 40 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ کراچی کا ہر وکیل 16 ووٹ کاسٹ کرے گا۔
اندرون سندھ کی 17 نشستوں کے لیے 12 ہزار 300 وکلا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ کراچی کے ضلع ساؤتھ کی 6 نشستوں پر 41 امیدوار ہیں، ضلع ایسٹ کی 4 نشستوں کے لیے 32 وکلا میں مقابلہ ہوگا، ضلع سینٹرل کی 4 نشستوں پر 17 امیدوار مد مقابل ہیں، جبکہ ضلع ویسٹ کی ایک نشست پر 7 اور ملیر کی ایک نشست پر 5 وکلا میں مقابلہ ہوگا۔
پنجاب بار کونسل الیکشن میں صوبے کے ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد وکلا حق رائے دہی استعمال کریں گے، پولنگ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر پنجاب بھر کی عدالتیں بند رہیں گی اور لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں 52 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز بطور ریٹرننگ افسر فرائض انجام دیں گے۔ پنجاب بار کونسل کی 75 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
خیبر پختونخوا بار کونسل کے انتخابات میں 24 ہزار رجسٹرڈ وکلا ووٹ کاسٹ کریں گے، پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔