پنجاب حکومت کا انتہا پسند جماعت پر پابندی کی سفارش، غیر قانونی اسلحہ پر کریک ڈاؤن کا اعلان

فہرستِ مضامین

پنجاب حکومت کے فیصلوں کے مطابق نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے افراد کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔پولیس افسران کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث افراد پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں گے۔انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔اس جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیے جائیں گے۔پوسٹرز، بینرز، اشتہارات، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بینک اکاؤنٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

غیر قانونی افغان باشندوں سے متعلق سخت اقدامات کا اعلان

غیر قانونی افغان شہریوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا مرتب کیا جائے گا۔انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔وہسِل بلوئر سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر محفوظ رہے۔غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کا فیصلہ

ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ایک ماہ کے اندر اندر غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کی مہلت دی ہے۔قانونی اسلحہ رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو خدمت مراکز سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اسلحہ فروشوں اور ڈیلرز کے اسٹاک کا معائنہ کیا جائے گا۔نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی سزا میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، جو ناقابلِ ضمانت جرم ہوگا۔

پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو اسلحہ ساز فیکٹریوں اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش بھی کر دی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں