پنجاب حکومت کا تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ ، پاکستان میں کونسی تنظیموں کو انتہا پسند قرار دے کر پابندی لگائی گئی اور کیا وہ تنظمیں اب بھی کسی دوسرے نام سے کام کررہی ہیں ؟

فہرستِ مضامین

پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا کہ انتہا پسندی میں ملوث جماعت کی قیادت کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے ہوں گے، ان کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ بینک اکاؤنٹس منجمد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے جائیں گے، لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی ہوگی۔ماضی میں پابند جماعتیں کچھ عرصے بعد نئے نام سے منظرعام پر آ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سپاہِ صحابہ نے خود کو اہلسنت والجماعت کے طور پر رجسٹر کروا لیا، جبکہ جماعت الدعوۃ نے اپنی سرگرمیاں فلاحی اداروں کے نام سے جاری رکھیں۔

واضح رہے کہ اس جماعت (تحریک لبئیک پاکستان )  پر اپریل 2021 میں وفاقی حکومت نے پابندی عائد کی تھی۔ یہ فیصلہ تنظیم کے پرتشدد مظاہروں کے بعد کیا گیا۔ بعد ازاں سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں پابندی ختم کر دی گئی تھی، اور تنظیم کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔

ماضی میں پاکستان میں کون کون سی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی

لشکرِ جھنگوی، جیشِ محمد،سپاہِ محمد پاکستان،سپاہِ صحابہ پاکستان،تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی،حزب التحریر،جماعت الدعوۃ اور اس سے منسلک فلاحی ادارے سمیت بہت سے انتہا پسند گروہوں اور تنظیموں پر پابندی لگائی جاچکی ہے

ان تنظیموں پر پابندی کا فیصلہ اس لے کیا گیا تھا کہ یہ تمام تنظیمیں یا تو ماضی میں دہشت گردی یا فرقہ واریت میں ملوث رہی ہیں، یا ان کے کالعدم تنظیموں سے روابط ثابت ہوئے ہیں۔

ماضی میں کب کب اور کن جماعتوں پر پابندی لگی؟

پاکستان میں ماضی میں بھی متعدد سیاسی، مذہبی اور علیحدگی پسند جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ذیل میں کچھ اہم مثالیں درج کی جا رہی ہیں:

تحریکِ لبیک پاکستان (TLP)

اپریل 2021 میں وفاقی حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ فیصلہ تنظیم کے پرتشدد مظاہروں کے بعد کیا گیا۔ بعد ازاں سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں پابندی ختم کر دی گئی تھی، اور تنظیم کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔

سپاہِ صحابہ پاکستان

2002 میں پرویز مشرف دورِ حکومت میں اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں اس جماعت نے نام تبدیل کر کے اہلسنت والجماعت کے طور پر سرگرمیاں جاری رکھیں۔

جیشِ محمد

یہ جماعت بھارتی پارلیمنٹ اور پلوامہ حملے سمیت کئی اہم واقعات میں ملوث پائی گئی، جس کے بعد اس پر پاکستان سمیت اقوامِ متحدہ کی جانب سے بھی پابندی عائد کی گئی۔ حکومتِ پاکستان نے متعدد بار اس کے اثاثے منجمد کیے اور دفاتر سیل کیے۔

لشکرِ جھنگوی

یہ ایک خطرناک فرقہ وارانہ گروہ تصور کیا جاتا ہے، جس پر سن 2001 میں باضابطہ طور پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے کئی سرکردہ رہنما دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار یا ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

جماعت الدعوۃ

حافظ سعید کی قیادت میں چلنے والی اس تنظیم پر ابتدا میں فلاحی کاموں کی آڑ میں جہادی سرگرمیوں کا الزام تھا۔ اسے 2019 میں کالعدم قرار دیا گیا، اور اس کے تحت چلنے والے فلاحی اداروں جیسے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

جئے سندھ متحدہ محاذ (JSMM)

سندھ کی علیحدگی کی تحریک چلانے والی اس جماعت پر مارچ 2013 میں وفاقی حکومت نے پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد کئی کارکن گرفتار ہوئے۔

اس کے علاوہ بھی بے شمار مختلف گروہ اورانتہا پسند جماعتیں جن پر پابندی لگائی گئی ہے

مبصرین کی رائے

مبصرین کا کہنا ہے کہ صرف تنظیموں پر پابندی لگانا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ان کے مالی وسائل، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور عوامی ہمدردیوں پر بھی قابو پانا ضروری ہے۔”جب تک نچلی سطح پر انتہا پسندی کی فکری جڑیں ختم نہیں کی جاتیں، محض پابندیاں وقتی طور پر اثر دکھا سکتی ہیں۔ ان تنظیموں کا دوبارہ ابھرنا ایک معمول ہے، اکثر نئے ناموں اور چہروں کے ساتھ۔”

کیا پابندیاں مؤثر رہی ہیں؟

ماضی میں پابند جماعتیں کچھ عرصے بعد نئے نام سے منظرعام پر آ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سپاہِ صحابہ نے خود کو اہلسنت والجماعت کے طور پر رجسٹر کروا لیا، جبکہ جماعت الدعوۃ نے اپنی سرگرمیاں فلاحی اداروں کے نام سے جاری رکھیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں