واضح رہے کہ اس جماعت (تحریک لبیک پاکستان ) پر اپریل 2021 میں وفاقی حکومت نے پابندی عائد کی تھی۔ یہ فیصلہ تنظیم کے پرتشدد مظاہروں کے بعد کیا گیا۔ بعد ازاں سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں پابندی ختم کر دی گئی تھی، اور تنظیم کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔
پاکستان میں کون کون سی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے
آئیے نظر ڈالتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک کتنی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جاچکی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان
جولائی 1954 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں پابندی عائد کردی گئی۔
1951 میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام میجر جنرل اکبر خان پر عائد کیا گیا جنہیں مبینہ طور پر اس وقت یو ایس ایس آر (موجودہ روس) کی حمایت حاصل تھی۔
اس سازش کے الزام میں جنرل اکبر، ان کی اہلیہ، نامور شاعر فیض احمد فیض اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید سجاد ظہیر سمیت متعدد افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی
پہلے پاکستانی فوجی صدر ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔1964 میں ایوب حکومت نے ریاست مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے کر اہم رہنماؤں کو گرفتار کرلیا اور دفاتر کو سیل کردیا۔ بعد ازاں جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس نے پابندی ختم کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو بحال کردیا۔
عوامی لیگ
26 مارچ 1971 کو اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ پر پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ مجیب کا عدم تعاون تحریک کا اقدام بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، شیخ مجیب اور ان کی جماعت نے قانون کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی۔
جنرل یحییٰ کا کہنا تھا شیخ مجیب نے ملک میں حکومت کے ہوتے ہوئے ایک متوازی حکومت چلانے کی کوشش کی، انہوں نے ملک میں تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دی، مشرقی پاکستان میں تعینات فوجیوں پر طعنے کسے گئے اور ان کی تذلیل کی گئی۔
نیشنل عوامی پارٹی
نیشنل عوامی پارٹی 1967 میں مولانا بھاشانی اور خان عبدالولی خان کی حقیقی نیشنل عوامی پارٹی سے علیحدگی کے بعد وجود میں آئی تھی۔ ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو بنگلا دیش کے قیام کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کا نام دے دیا گیا تھا۔
نیشنل عوامی پارٹی کو 8 سال کے دوران دو مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا، پہلے 1971 میں جنرل یحییٰ خان نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائدکی جبکہ دوسری مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی۔
اس کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کی دوبارہ سے تشکیل کی گئی، پہلے اس کا نام نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور پھر عوامی نیشنل پارٹی رکھا گیا۔
تحریک لبیک پاکستان
حکومت پنجاب نے اپریل 2021 میں پرتشدد کارروائیوں میں متعدد پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کر دی تھی۔
صوبائی حکومت نے دہشتگردی ایکٹ 1997 کو بنیاد بنا کر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی درخواست کی تھی، جس کے خلاف ٹی ایل پی نے درخواست دائر کی اور پھر حکومت ٹی ایل پی پر عائد پابندی اٹھانے پر رضا مند ہوگئی اور نومبر 2021 میں سعد رضوی جماعت کے سربراہ بنے۔
یہ وہ جماعتیں ہیں جو ملک کی سیاست میں سرفہرست رہیں ہیں اور پارلیمان میں بھی رہی ہیں اس کے علاوہ کئی دوسری انتہا پسند جماعتیں اور گروہ بھی ہیں جن پر پابندی لگائی جاچکی ہے