کراچی ( ڈبلیو ڈی این ڈیسک ) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں سے سارا پانی دریائے سندھ میں نہیں آئے گا، فی الحال سندھ میں موجود بیراجوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، پانی کی صورتحال کو وزیراعلیٰ سندھ مانیٹر کر رہے ہیں۔
بدھ کے روز این ڈی ایم اے کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری اور وفاقی وزیر عطا تارڑ کی ساتھ پریس کانفرنس میں سندھ میں بھی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک مون سون کا آخری سپیل آئے گا جس میں انھی علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہونے کی توقع ہے جس کے لیے تمام الرٹس متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاچکے ہیں۔
جمعرات کے روز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر گورنر پنجاب سمیت پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت بھی موجود ہے۔
سندھ میں کوئی خراب صورتحال نہیں
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام انتظامیہ کو الرٹ کیا ہوا ہے اور اگر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تو وہ بھی کریں گے۔ سندھ میں اب تک کوئی خراب صورتحال نہیں ہے، پھر بھی صوبائی پی ڈی ایم اے نے انتظامات کئے ہوئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے حفاظتی اقدامات کئے ہیں اور چیئرمین بلاول بھی صوبائی وزراء سے رابطے میں ہیں۔ ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے تیاری مکمل کرلی ہے اور پنجاب اور کے پی کے حکومت کو ہر قسم کی مدد دینے کی پیشکش کی ہے۔
سینئر وزیر کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ سندھ اس صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں وزیر آبپاشی جام خان شورو بھی دریائے سندھ کے اطراف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ کچے کے علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو نکالنے کا کام شروع کردیا ہے اور کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں فی الحال ایمرجنسی کی صورتحال نہیں ہے، پھر بھی بوٹس، خیمے، کولر اور کچن کا سامان بھی ذخیرہ کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لئے سیل قائم کردیا ہے۔
سندھ میں مانیٹرنگ کنٹرول رومز قائم
دوسری جانب چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت صوبے میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیلابی صورتحال پر مانیٹرنگ، کنٹرول رومز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ پنجاب میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث سندھ میں بھی بڑے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، صوبے بھر میں تمام تیاریاں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ سیلاب کی صورتحال کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کر رہی ہے اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
چھٹیاں منسوخ
چیف سیکریٹری نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ جامع ہنگامی منصوبے مرتب کریں، جن میں عوام اور مال مویشیوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام سرکاری و نجی مشینری اور دستیاب وسائل کی تفصیلات مرتب کی جائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر استعمال میں لائی جا سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف سیکریٹری آفس، کمشنر آفسز اور ڈپٹی کمشنر آفسز میں کنٹرول رومز قائم کیے جائیں گے تاکہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ لازمی خدمات فراہم کرنے والے تمام محکموں بشمول آبپاشی، بلدیات، صحت، پولیس، پبلک ہیلتھ، لائیو اسٹاک اور فیلڈ افسران کے دفاتر کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
سندھ میں وزرا فوکل پرسن مقرر
بدھ کے روز سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ کی منظوری سے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت پنجاب میں سیلاب سے تباہی کے بعد اور سندھ میں سیلاب کے خدشات کے پیش نظر وزراء کو فوکل پرسن مقرر کردیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری حکم نامے کے مطابق نامزد وزراء اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں دریا کے دائیں اور بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔گڈو سے سکھر تک کے علاقے کے لیے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مکیش کمار چاؤلہ کو دائیں کنارے جبکہ زراعت، کھیل اور امورِ نوجوانان کے وزیر سردار محمد بخش مہر کو بائیں کنارے کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔
سکھر سے کوٹری تک کے لیے صنعت و تجارت کے وزیر جام اکرام اللہ خان دھاریجو دائیں کنارے جبکہ توانائی و منصوبہ بندی کے وزیر سید ناصر حسین شاہ بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔
کوٹری سے نیچے کے علاقے میں مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر کے وزیر ریاض حسین شاہ شیرازی کو دائیں کنارے جبکہ لائیو اسٹاک اور فشریز کے وزیر محمد علی ملکانی کو بائیں کنارے کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔