پنجاب میں تباہی مچانے والا سیلاب اگلے دو دن میں سندھ میں داخل ہونے کا امکان، 16 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے: شرجیل میمن

فہرستِ مضامین

سندھ حکومت کی نظریں پنجند پر مرکوز ہیں جہاں پنجاب کے دریاؤں کا پانی جمع ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سندھ کے وزراء نے کہا ہے کہ امکانی سیلاب سے 1657 دیھات، 167 یونین کاؤنسلز زیر آب آنے سے 16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے اپنے الرٹ میں سندھ کو خبردار کیا تھا کہ دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق تین تا چار ستمبر تک 9 لاکھ سے ساڑھے 4لاکھ کیوسک ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔ گڈوبیراج پر 5 سے 6 ستمبر تک 8 سے 11لاکھ کیوسک پانی متوقع ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ امکانی سیلاب کی صورتحال میں 16 لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے

این ڈی ایم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر اگر پانی کے ریلے اسی طرح سندھ کی جانب آئے اور 11 لاکھ کیوسک پانی پنجنند سے گڈو میں داخل ہوا تو سندھ میں انتہائی اونچے درجی کی سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

’حکومتِ سندھ کی توجہ پنجند پر مرکوز ہے‘

حکومتِ سندھ کی توجہ پنجند پر مرکوز ہے جہاں پنجاب سے آنے والے دریائے راوی، چناب اور ستلج کا پانی جمع ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ یہاں سے اندازہ لگایا جائے گا کہ گڈو کے مقام پر کتنا پانی پہنچے گا۔

صوبائی وزیر جام خان شورو نے ڈبلیو ٹی این کو بتایا کہ پنجاب میں کٹ لگا کر پانی کا رخ موڑ کی موڑنے کی وجہ سے پانی کی رفتار میں کمی ہوئی ہے، آج شام تک پانی تریمو تک پہنچے گا جس کے بعد 24 گھنٹے میں پانی پنجند تک پہنچنے کا امکان ہے، اور گڈو تک آنے کے لیے تقریباً مزید دو دن لگ سکتے ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ گڈو میں پہلے سے دو لاکھ کیوسکس پانی موجود ہے اور ابر پنجند سے آنے والے پانی کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ تاہم، سندھ حکومت سپر فلڈ کی تیاریوں میں مصروف ہے جس کے تحت آٹھ لاکھ کیوسکس سے زائد پانی کی آمد متوقع ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل سندھ میں گڈو کے مقام پر 4 ستمبر کو سپر فلڈ کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں صوبائی وزیر جام خان کا کہنا ہے کہ پانی کی آمد میں ایک یا دو دن کا اضافی وقت لگ سکتا ہے۔

سیلاب کا خطرہ اب بھی موجود ہے: شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی پریس کلب میں دوران کانفرنس بتایا کہ سندھ میں سیلاب کا خطرہ اب بھی موجود ہے، امکانی سیلاب کے باعث صوبے کے 1657 دیہات، 167 یونین کائونسلیں زیر آب آسکتے ہیں جس سے 16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سیلابی ریلے دو یا تین ستمبر تک سندھ میں داخل ہوں گے، سیلاب کی امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت سندھ حفاظتی اقدامات اٹھا رہی ہے، 551 مقامات پر ریلیف کیمپس بنانے کا ارادہ ہے، عوام افواہوں پر دیھان نہ دے، وہ ہر تین گھنٹوں کے بعد پانی کی صورتحال سے متعلق آگاھ کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بُلند ہونے اور امکانی سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے انتظام کردیئے ہیں، سرکاری مشنری مختلف علاقوں میں پہنچادی گئی ہے، کچے میں مقیم لوگ صورتحال سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں، جب وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں تو خود ہی پکے کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حفاظتی باند مضبوط ہیں، حکومت سندھ نے ان کی نگرانی کے احکامات بھی دیئے ہیں، اگر بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال کنٹرول میں رہنے کے امکانات ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر سندھ سیکریٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، ڈیش بورڈ پر سیلابی صورتحال کی لائیو اپڈیٹ ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے تاہم سندھ کے تینوں بیراجوں پر پانی کے ریلے معمول کے مطابق ہیں، گڈو کے مقام پر ایمرجنسی کی صورتحال نہیں ہے۔

سات لاکھ کیوسک پانی آیا تو گھوٹکی میں ایک لاکھ افراد متاثر ہوں گے: محمد بخش مہر

حکومت سندھ کے فوکل پرسن محمد بخش مہر نے گھوٹکی ضلعے میں اجلاس کی صدارت کی اور بریفنگ لی

سندھ کے وزیر و سیلاب سے متعلق حکومت سندھ کے فوکل پرسن محمد بخش مہر نے کہا کہ دریائے سندھ میں اگر سات لاکھ کیوسک پانی آیا تو گھوٹکی ضلعے میں ایک لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

محمد بخش مہر نے گھوٹکی کے ہیڈ کوارٹر میرپور ماتھیلو میں امکانی سیلابی صورتحال سے نمٹنے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور دیگر نے سیلابی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی۔

محمد بخش مہر نے بتایا کہ دریائے سندھ میں سات لاکھ کیوسک پانی آنے کی صورت میں گھوٹکی ضلعے کے 149 دیہات، گھوٹکی تحصیل میں 60 ہزار افراد اور اوباوڑو تحصیل کے 55 ہزار افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی باند مضبوط ہیں، انہیں مزید مضبوط کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملکر کام کیا جا رہا ہے، مشکل حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

حکومت سندھ کے فوکن پرسن نے کہا کہ بھارت نے پانی چھوڑ دیا، جس کے باعث پنجاب کے چناب، ستلج، راوی اور دیگر دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، سندھ پر بھی اثرات پڑیں گے، چند دنوں میں یہ پانی گڈو کے مقام پر دریائے سندھ میں داخل ہوگا، گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے، جب کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی آئے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں