پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بہنے والے دریا مزید بپھر گئے ہیں، این ڈے ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک سیلابی سطح ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ کی ڈیزائن گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے، عوام حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر چھ اضلاع جن میں لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ شامل ہیں، فوج طلب کرلی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی امداد کے لیے فوج طلب کی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ، صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب ان چھ اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے طے ہو گی۔ تاہم سیلابی علاقوں میں ضرورت کے مطابق آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کے تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات بروقت اٹھائے جا رہے ہیں۔
گرودوارہ کرتارپورصاحب میں سیلابی پانی داخل
پاکستان انڈیا کی سرحد پر بہنے والے دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کی وجہ سے اس کے اطراف میں موجود علاقوں میں رہنے والوں کو سیلاب کا سامنا ہے۔
ایسے میں ضلع نارووال کے متعدد علاقے زیرآب آچُکے ہیں جہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی صحافی میاں شاہد اقبال کے مطابق سیلابی صورتحال کی وجہ سے پاکستان انڈیا کی سرح پر موجود تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب کے قریب بند کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے دربار میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔

میاں شاہد کے مطابق شکر گڑھ کو ضلع نارووال سے ملانے والی قومی شاہراہ زیرِآب آچُکی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نارووال کے مطابق اب تک 250 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔
شکرگڑھ دریائے روای نالہ اوج اور جسٹر کے مقام پر پانی کا بہاؤ تیز ہونے سے آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پانی نارووال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسٹر بستر کا بند ٹوٹ جانے سے گرودوارہ کرتارپور صاحب میں یاتریوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، سرحدی علاقوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے۔
اب تک مال مویشیوں سمیت 409 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے، ابھی تک 21 مقامات پر آپریشن ہوا ہے اور کئی مقامات پر آپریشن میں دشواری پیش آرہی ہیں۔ جھن مان سنگھ گاؤں کے اطراف پانی جمع ہونے سے گاؤں کے لوگوں گھروں میں محصور ہو رہا گے ہیں۔
کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی نے میڈیا کو بتایا کہ پاک فوج کی امدادی ٹیمیں سیالکوٹ اور نارووال کے لیے روانہ ہو گئی ہیں اور سیالکوٹ سے ساڑھے چار ہزار افراد کو جبکہ نارووال سے دو سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

کمشنر نوید حیدر شیرازی کے مطابق وزیرآباد کے چار دیہات سے مکمل آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ گجرات سے پندرہ ہزار کے قریب افراد کو محفوط مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں، ریلیف کیمپ فعال ہیں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کا سٹاک موجود ہے۔
تربیلا ڈیم کے سپیل ویز کھولنے کا فیصلہ
این ڈی ایم اے نے ایکس پر جاری اپنے الرٹ میں کہا ہے کہ آج دن 12:30بجے تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپل ویز کھلنے کے باعث پانی کا بہاؤ 2لاکھ 50 ہزارکیوسک تک متوقع ہے، دریائے سندھ کے بہاؤ میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر ملحقہ علاقوں کے مکین آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
این ڈی ایم اے نے سپیل ویزکھولنے کے بعد پیدا ہونے والی امکانی صورتحال سے متعلق سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے (پی ڈی ایم اے) کو بھی آگاھ کردیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ادارہ تمام ریسکیو و ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہا ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے، این ڈی ایم اے تمام سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ عوام مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور امدادی ٹیموں سے رابطہ رکھیں۔
نارووال میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارروال میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے آج بروز بدھ 27 اگست کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے کے مطابق علاقے کی متعدد اہم رابطہ سڑکوں کے زیرِاب آجانے کی وجہ سے سفری سہولیات بُری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود لوگوں کو جلد باحفاظت مقامات اور فلڈ ریلیف کیمپس میں منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاو میں تاریخی اضافہ ہوا ہے
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈی جی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاو میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، دریائے چناب راوی ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر انتہائی زیادہ اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 لاکھ 69 ہزار جبکہ اخراج 7 لاکھ 62 ہزار کیوسک ہے، جبکہ این ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر بہاؤ 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک سیلابی سطح ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب خانکی کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، جہاں پانی کا بہاو 7 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 29ہزار کیوسک ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے اپنے بیان میں کہا کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کی آمد 79 ہزار جبکہ اخراج 67ہزار کیوسک ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے، پی ڈی ایم اے صوبے بھر میں مسلسل کوارڈینیشن کو یقینی رہا ہے۔