پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی، 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق، ہزاروں بے گھر

فہرستِ مضامین

پنجاب میں آنے والے دریائی سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے، ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق راوی دریا میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ شاہدرہ کے مقام پر شدید سیلابی صورتحال ہے۔

ترجمان کے مطابق راوی دریا میں ہیڈورکس کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ چناب دریا میں مرالہ کے مقام پر نچلے درجے اور خانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، پی ڈی ایم اے کے مطابق چناب دریا میں قادرآباد کے مقام پر شدید سیلاب ہے، جبکہ ہیڈ تریمو پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج دریا میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطرناک بڑا سیلاب ڈکلیئر کردیا گیا ہے، دوسری جانب، پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 نے سیالکوٹ ضلع میں سیلاب کے باعث 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ریسکیو سروس کے مطابق اب تک 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

ملک میں بارشوں کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے آج سے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق آج اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، راجن پور، لیہ اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بادل برس سکتے ہیں، جبکہ مالاکنڈ اور ہنزہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، آزاد کشمیر کے علاقوں باغ، کوٹلی، میرپور، بھمبر اور دیگر علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، این ڈی ایم اے کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں 30 اگست سے 2 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے۔

کرتارپور سے پانی کی نکاسی

کرتارپور میں گردوارے سے پانی نکال دیا گیا ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گردوارے کے مختلف حصوں کو کلیئر کر دیا گیا ہے، پارکنگ اسٹینڈ، بازار اور لنگر خانے سے بھی پانی کی نکاسی مکمل ہو چکی ہے، گزشتہ روز راوی دریا کا پانی کرتارپور گردوارے میں داخل ہو گیا تھا۔

دریا سندھ میں بڑے سیلاب کا خدشہ

ڈپٹی کمشنر راجنپور شفقت اللہ مشتاق کے مطابق دریا سندھ میں بھی شدید سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، دریا سندہ کے قریب فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں متحرک ہو چکی ہیں، جبکہ کچے کے علاقے میں پولیس اہلکار بھی ریسکیو کے کام میں شریک ہیں۔

ملتان میں کیا صورتحال ہے؟

پنجاب کے تینوں دریاؤں میں طغیانی کے بعد ملتان میں بھی چند گھنٹوں کے اندر سیلابی ریلہ داخل ہونے کا خدشہ ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا کے مقام پر شگاف لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس وقت متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بھی گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں