کراچی ( رپورٹر ) پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے جونیئر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار پھر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا، انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
جونئیر ذوالفقار علی بھٹو کراچی کے علاقے گلشن حدید پہنچے، جہاں انہوں نے ایک تقریب سے خطاب میں ایک بار پھر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔
اس کے پہلے جونئیر ذوالفقار نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم ابھی تک ان کی پارٹی کا نام سامنے نہیں آیا۔
خاندانی سیاست کا خاتمہ
گلشن حدید میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جونیئر ذوالفقار نے کہا کہ گلشن حدید کے نوجوانوں کی محبت اور پیار دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا، میں ایک نئی پارٹی بنا رہا ہوں جس میں کسان، مزدور، طالبعلم اور نوجوان عوام کی خدمت کے لیے ہمارے ساتھ ہوں گے، میری خواہش ہے کہ اس ملک کا وزیرِاعظم ایک کسان ہو۔
جونیئر ذوالفقارعلی بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا مقصد عوامی سیاست ہے۔ ہم اقتدار اور خاندانی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم عوامی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو روزگار دینے اور ملک کی ترقی کے لیے اسٹیل مل قائم کی تھی، جسے کرپشن کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ آج مزدور ایک وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
پیپلزپارٹی پر تنقید
پاکستان پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جونیئر ذوالفقار بھٹو کا کہنا تھا کہ موجودہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے نعرے ‘روٹی، کپڑا اور مکان’ سے ہٹ چکی ہے۔ انہوں نے غریبوں سے ایک وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔
ذوالفقار جونیئر نے کہا، ہم سندھو دریا کا پانی کسی کو بھی لینے نہیں دیں گے۔ جن لوگوں نے سندھو دریا کو دیکھا ہی نہیں، وہ کیسے سندھو دریا کا مقدمہ لڑیں گے ؟ سندھو دریا میں ہماری سانسیں بستی ہیں۔
سیاسی پارٹی کا اعلان
جونیئر ذوالفقارعلی بھٹو نے سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان اسی شہر سے کیا، جہاں سے اس کے دادا نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی کے قیام کا اعلان لاہور سے کیا تھا۔
جونیئر ذوالفقار نے بھی لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ایک نئی سیاسی جماعت شروع کرنے کا اعلان کیا، جس میں ان کی بہن فاطمہ بھٹو بھی شامل ہوں گی۔ اس جماعت کا مقصد کسانوں، مزدوروں اور مرجوانی (عام عوام) کے حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے۔
جونیر ذوالفقار بھٹو نے لاڑکانہ اور لیاری سے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے پیپلزپارٹی کو زرداری لیگ بھی قرار دیا تھا، انہوں نے اسٹبیلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہونے کی بھی تردید کی تھی۔