کراچی میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی سربراہی میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنر کراچی، سیکریٹری بلدیات، ڈائریکٹر جنرل صحت اور تمام ڈویژنل کمشنرز شریک ہوئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال اب تک سندھ میں ڈینگی کے 982 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں کراچی سے 641 اور حیدرآباد سے 178 کیسز شامل ہیں۔ صوبے کے مختلف اسپتالوں میں 239 ڈینگی وارڈ قائم کیے گئے ہیں جہاں 1289 بیڈز ڈینگی کے مریضوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت نے آگاہ کیا کہ صوبے کی 117 سرکاری لیبارٹریز میں ڈینگی کے ٹیسٹ مفت کیے جا رہے ہیں جبکہ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی ٹیسٹ کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت کی کہ یونین کونسل سطح پر فیومیگیشن پلان مرتب کیا جائے اور ڈینگی کے مچھروں کے لاروا کو سائنسی بنیادوں پر اسپرے اور فیومیگیشن کے ذریعے ختم کیا جائے۔ ساتھ ہی عوام میں ڈینگی کے متعلق آگاہی مہم چلانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں اسمبلی کے دوران بچوں کو ڈینگی سے بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کیا جائے اور کسی بھی علاقے میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش روکی جا سکے۔
تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت ڈینگی ٹیسٹ اور وارڈ قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ ڈینگی کنٹرول روم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسپتالوں کے ڈینگی وارڈز کا باقاعدہ دورہ کر کے سہولیات کا جائزہ لیا جائے۔
عوام کو بھی تاکید کی گئی ہے کہ ڈینگی بخار کی صورت میں فوری طور پر محکمہ صحت کی ہیلپ لائن 0229240114 پر رابطہ کریں۔