ڈاکٹر شاہنواز کنبہر کیس میں ڈی آئی جی سمیت چار پولیس اہلکار اشتہاری مجرم قرار

فہرستِ مضامین

رپورٹ : محمد امجد خاصخیلی

سندھ کے شہر میرپورخاص کی عدالت نے ڈاکٹر شاہنواز کنبہار کے پولیس تحویل میں ہلاکت کے مقدمے میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی، انسپیکٹر عبدالستار سموں سمیت چار پولیس اہلکاروں کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے متعلقہ رہائشی پتوں پر چھاپے مار چکی ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔

عدالت نے تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ ایس ایس پی چوہدری اسد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور اسلام آباد کے رہائشی ہیں متعلقہ علاقوں کے ایس ایس پیز عدالت کو مطمئن نہیں کر پائے کہ انھوں نے گرفتاری کے لیے کیا کارروائی کی ہے۔

ایڈووکیٹ ابراہیم کنبہار کا کہنا ہے کہ اگلی سماعت پر متعلقہ ایس ایس پی اپنی رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے مزید سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی ہے۔

اس سے قبل شاہنواز کنبھر کیس کی کارروائی کا احوال

میرپورخاص کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کیس میں سندھڑی پولیس اسٹیشن پر درج ایف آئی آر ختم کرنے اور ایف آئی اے کی ایف آئی آر برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے قتل کیس میں مفرور قرار دیے گئے سابق ڈی آئی جی میرپورخاص جاوید جسکانی، سابق ایس ایس پی میرپورخاص چوہدری اسد علی، ایس ایس پی عمرکوٹ رضا بلوچ کے ریڈر سب انسپکٹر عبدالستار سموں، کانسٹیبل لکھمیر اور کانسٹیبل محمد صدیق کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا  حکم بھی دیا۔

ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری کے بعد پولیس حراست میں قتل کے خلاف سندھڑی تھانے پر ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے نے بھی ہائی پروفائل واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے واقعے کی الگ ایف آئی آر درج کرادی تھی۔

عدالت نے ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں سندھڑی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 47 کو کالعدم قرار دینے اور ایف آئی اے کی جانب سے دائر ایف آئی آر نمبر 21 کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔

انویسٹگیشن آفیسر اسلم اور ملزمان کے وکیل عدالت کے باہر صحافیوں کو تفصیلات سے آگاھ کر رہی ہیں

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کے مدعی ایڈووکیٹ ابراہیم کنبھر نے عدالت کے باہر ڈبلیو ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اچھا فیصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کے ملزمان، جو پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے تحت ۱قبل از گرفتاری ضمانتیں لے چکے ہیں، ان کی ضمانتیں بھی مسترد تصور کی جائیں گی۔

ملزموں کے وکیل کامران بھٹی نے کہا کہ ہمارا موقف تھا کہ سندھ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 47 کو برقرار رکھا جائے تاہم عدالت نے اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کی ایف آئی آر کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی آرڈر آنے کے بعد مزید موقف دیں گے۔

پولیس نے کیس کی 70 فیصد تفتیش کر لی ہے

قتل کیس کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی اسلم جاگیرانی نے ڈبلیو ٹی این کو بتایا کہ پولیس نے کیس کی 70 فیصد تفتیش کر لی ہے، اس لیے یہ تفتیشی رپورٹ باقی رہے گی، جب کیس آگے بڑھے گا  تو گواہی کے دوران بھی  ہم کیس کا حصہ بنیں گے۔

پولیس اور ایف آئی اے کی ایف آئی آرز میں سابق ڈی آئی جی میرپورخاص جاوید جسکانی، سابق ایس ایس پی میرپورخاص اسد چوہدری اور سابق ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا بلوچ اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے فروری میں عدالت میں پیش کیے گئے حتمی چالان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو گولی مار کر قتل کرنے کے لیے سی آئی اے کے دو پولیس افسران نادر پرویز اور غلام قادر کے سرکاری ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کوجعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا

ڈاکٹر شاہنواز کنبھر، جن پر توہین مذہب کا الزام تھا، پولیس نے انہیں 9 ستمبر 2024 کو جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس نے جب لاش  ورثا کے حوالے کی تومشتعل لوگوں کے ہجوم نے لاش چھین کر اسے آگ لگادی تھی۔

22 ستمبر کو وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس وقت کے ڈی آئی جی میرپورخاص جاوید جسکانی اور اس وقت کے ایس ایس پی میرپورخاص اسد چوہدری کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور بعد ازاں دیگر افسران کو بھی معطل کردیا گیا۔

26 ستمبر کو سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو ہلاک کرنے والا پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں