مظفرآباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان 32 ووٹ حاصل کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے نئے صدر منتخب ہوگئے۔ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔
53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں صدر کے انتخاب کے لیے 27 ووٹ درکار تھے۔ صدارتی انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چوہدری طارق فاروق کی زیرِ صدارت ہوا، جبکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دیے۔
پولنگ صبح 10 بجے شروع ہوئی اور دوپہر ایک بجے تک جاری رہی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ ڈاکٹر نجیب نقی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ارکان اسمبلی نے انہیں مبارکباد دی۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی اس خطے کے 25ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔ صدر کا منصب سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے جنوری میں انتقال کے بعد خالی ہوا تھا۔
سیاست میں آمد کیسے ہوئی؟
ڈاکٹر نجیب نقی کا سیاسی سفر 1990 میں اس وقت شروع ہوا جب عام انتخابات کی مہم کے دوران ان کے والد، کرنل ریٹائرڈ محمد نقی خان، ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کرگئے۔
والد کی وفات سے قبل ڈاکٹر نجیب نقی طب کے شعبے سے وابستہ تھے۔ انہوں نے لاہور کے ایچی سن کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی، تاہم والد کی اچانک وفات کے بعد انہوں نے عملی سیاست کا رخ کیا۔
وہ 1991 میں پہلی مرتبہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے دوران ڈاکٹر نجیب نقی پانچ مرتبہ قانون ساز اسمبلی اور ایک مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔
اس دوران وہ پارلیمانی سیکریٹری کے علاوہ صحت، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی، ہائر ایجوکیشن، پاپولیشن ویلفیئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف محکموں کے وزیر بھی رہے۔
تاہم 2021 کے انتخابات میں انہیں پہلی مرتبہ اپنے حلقے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
2026 کے انتخابات میں ان کے حلقے سمیت پونچھ کے سات حلقوں میں تاحال انتخاب نہیں ہوسکا، تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا، جس کے بعد انہوں نے اسمبلی سے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی۔
سیاسی خاندان سے تعلق
ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق پونچھ اور سدھنوتی کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔
ان کے دادا کرنل خان محمد خان کو ان کے حامی ’’بابائے پونچھ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ 1934 سے 1936 تک ریاست جموں و کشمیر کی پرجا سبھا کے رکن رہے۔
کرنل خان محمد خان نے 1934 میں سدھن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی اور ضرورت مند طلبہ کی تعلیم کے لیے ’’مٹھی بھر آٹا اسکیم‘‘ بھی شروع کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انہوں نے سردار محمد ابراہیم خان کو سیاست میں آگے لانے میں بھی کردار ادا کیا۔
ان کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی کے والد کرنل ریٹائرڈ محمد نقی خان نے سیاسی سلسلہ آگے بڑھایا اور وہ بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں وزیر رہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے سسرالی خاندان کا بھی پاکستانی سیاست سے تعلق ہے۔ ان کے سسر خان غلام دستگیر خان اور برادرِ نسبتی خرم دستگیر خان مختلف ادوار میں وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
یوں ڈاکٹر نجیب نقی کی سیاست کا آغاز ایک خاندانی سانحے کے بعد ہوا اور تقریباً 35 سالہ سیاسی سفر کے بعد وہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے اعلیٰ ترین آئینی منصب، یعنی صدرِ ریاست، تک پہنچ گئے ہیں۔