کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج: دھرو راٹھی اور ابھیجیت دپکے گرفتار؟

فہرستِ مضامین

نئی دہلی: بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف بڑے احتجاج سے قبل پولیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے سمیت تین رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پارٹی کے مطابق رہنماؤں کو نئی دہلی پہنچنے والی پرواز سے اترنے سے پہلے ہی گرفتار کیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی مہم کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ اپوزیشن اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں افراد ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کا سیاسی فائدہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی نظرثانی مہم کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دہرا اندراج اور نااہل ووٹرز کے نام خارج کرنا ہے۔

اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب سرکاری طور پر واضح ہو چکا ہے کہ بھارت میں مودی کی حکومت کے تحت مکمل آمریت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرواز سے اترتے ہی کارکنوں کو گرفتار کرنا حکومت کے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں سخت سکیورٹی، 200 سے زائد مظاہرین زیرِ حراست

احتجاج کے پیش نظر جمعے سے نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں، جبکہ درجنوں میٹرو اسٹیشن بند اور متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاجی مقام کے اطراف موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔ ٹی وی فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو مرکزی دہلی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کا تعاقب کرتے اور انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر لے جاتے دیکھا گیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اب تک 200 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

موجودہ احتجاج کو جولائی میں شروع ہونے والی عوامی مہم کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل امتحانی پرچوں کے افشا ہونے سے متعلق اسکینڈل کے بعد احتجاجی دباؤ بڑھا تھا اور بھارتی وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس بار مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مودی حکومت کے لیے نیا سیاسی چیلنج

بھارتیہ جنتا پارٹی کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور ملک کی معاشی ترقی اس کی انتخابی کامیابیوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بی جے پی اپوزیشن پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ اپنی انتخابی ناکامیوں کے بعد عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم اپوزیشن کے مسلسل احتجاج مودی حکومت کے لیے سیاسی چیلنج بن رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب 2027 کے اوائل سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں اہم انتخابات متوقع ہیں، جن میں بی جے پی کے زیرِ اقتدار اتر پردیش بھی شامل ہے، جو ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔

احتجاج کی اجازت نہیں ملی، مظاہرین ڈٹ گئے

خود کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کہنے والا گروپ ابتدا میں ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ گروپ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے کارکن صبح 10 بجے نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوں گے، جہاں احتجاجی مظاہروں کی اجازت دی جاتی ہے۔

دہلی پولیس نے جمعے کو کہا کہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ درخواست مقررہ وقت پر جمع نہیں کرائی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق ماضی میں گروپ کی جانب سے احتجاج سے متعلق یقین دہانیوں کی خلاف ورزی بھی کی گئی، جبکہ انتظامیہ کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے۔

پولیس نے خبردار کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تاہم کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ان کا بنیادی آئینی حق ہے اور وہ ہر صورت مظاہرہ کریں گے۔

ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن بند، انٹرنیٹ سروس معطل

مظاہرین کی نئی دہلی اور مرکزی کاروباری علاقے تک رسائی محدود کرنے کے لیے جمعے کو شہر آنے والی متعدد طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ جمعے کی رات سے 57 میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق سرکاری حکم نامے کے تحت احتجاجی مقام کے چار کلومیٹر کے دائرے میں جمعے کی رات سے ہفتے کی رات تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

احتجاج کے خلاف سکیورٹی اقدامات اور گرفتاریوں نے بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، انتخابی شفافیت اور شہریوں کے حقِ احتجاج سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں