کراچی: سی ٹی ڈی کی کارووائی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کلعدم تنظیم کے دو دہشت گرد گرفتار

فہرستِ مضامین

کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم تنظیم “زینبیون برگیڈ” کے دو دہشت گردوں کو سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس اداروں نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے 2 نائن ایم ایم پستول اور 2 ہنڈ گرنیڈز بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزمان اسرار حسین گلگتی ولد ابرار حسین اور معصوم رضا عرف عامر اللہ عرف عمران موٹا ولد مرزا انور علی شہر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 9 اکتوبر کو یونیورسٹی روڈ این ای ڈی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے قاری انس رحمان کو قتل کیا، جبکہ مئی 2025 میں شیرپاؤ کالونی میں قاری عبد الرحمن کو بھی قتل کیا گیا تھا۔ معصوم رضا عرف عمران موٹا ریڈ بک میں شامل مطلوب دہشت گرد ہے۔

ملزمان نے اپنے غیر ملکی روابط اور پڑوسی ملک میں بیٹھے تنظیم کے سرغنہ سے مالی معاونت کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے خلاف دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ کے کیسز درج کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ ملزمان نے اپنے نیٹ ورک میں کئی دیگر دہشت گردوں کی شناخت بھی کی ہے جن کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان قاری انس رحمان کو قتل کرنے کے لیے 60 ہزار روپے بھی ٹرانسفر کر چکے تھے اور اس نیٹ ورک کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے جہاں اسلحہ ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ ناگن چورنگی واقعے کے تانے بانے بھی اسی گروہ سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ زینبیوں کا نام ماضی میں بھی کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے

ذرائع کے مطابق، یہ کالعدم تنظیم پاکستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص کرم ایجنسی اور پاراچنار میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔

کالعدم زینبیون بریگیڈ کیا ہے؟

کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے حوالے سے عام خیال یہ ہے کہ یہ شیعہ پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ایک مسلح گروہ ہے جو شام میں خانہ جنگی کے دوران ایران کے اتحادی بشارالاسد کی حمایت میں سرگرم رہا۔ اس گروہ کو عراق اور شام میں مقدس مقامات، خصوصاً حضرت زینبؓ کے مزار کی حفاظت کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق، زینبیون بریگیڈ (ZB) ایک عسکریت پسند گروہ ہے جسے 2011 میں پاسدارانِ انقلاب نے شام میں عوامی بغاوت کے بعد تشکیل دیا۔ اس گروہ کو فارسی میں “لواء زینبیون” بھی کہا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 2019 میں زینبیون بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا، جب کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد جنوری 2024 میں اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جس کا نفاذ 29 مارچ 2024 سے ہوا۔

اس گروہ پر الزام ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم شیعہ کمیونٹی کے نوجوانوں کو شام کے حکمران بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف لڑنے کے لیے بھرتی کرتا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں