کراچی میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کی مسافر طالبہ کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکات، طالبہ کا کمپنی کے خلاف ایک کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ

فہرستِ مضامین

کراچی میں آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ہراسانی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک خاتون طالبہ کے ساتھ پیش آیا جس نے الزام لگایا ہے کہ ایک معروف رائیڈ ہیلنگ کمپنی کے ڈرائیور نے سفر کے دوران نازیبا رویہ اختیار کیا۔

درخواست گزار طالبہ نے کنزیومر کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کمپنی سے ایک کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبہ کے مطابق اگست 2025 میں موبائل ایپ کے ذریعے بک کی گئی سواری کے دوران ڈرائیور نے پہلے ویڈیو بنانے کا کہا اور بعد ازاں چلتی گاڑی میں اپنی پینٹ اتارنے کی کوشش کی۔ خوف کے باعث طالبہ نے جان بچانے کے لیے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔

متاثرہ خاتون نے واقعے کی اطلاع کمپنی کے کسٹمر سپورٹ کو دی اور تھانہ نیو ٹاؤن میں بھی باضابطہ شکایت درج کرائی۔ خاتون کے مطابق کمپنی نے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی اور شکایت پر مناسب جواب نہیں دیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی کی سیکیورٹی پالیسیوں اور ڈرائیور کی تصدیق کے نظام میں سنگین خامیاں ہیں، جن کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ کنزیومر کورٹ نے اب رائیڈ ہیلنگ کمپنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واقعے پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شہری حلقوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور خواتین صارفین کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں