کراچی: رپورٹ-صدام کولاچی
کراچی کے علائقے کلفٹن میں چائنا پورٹ کے قریب 25 جولائی کی شپ گولیوں سے چھنی حالت میں ملنے والےلڑکی اور لڑکا میاں بیوی تھے، ساجد مسیحی نے ثناء آصف سے نکاح کے لیے اپنا مذہب چھوڑ کردائرہ اسلام میں داخل ہوا تھا۔
کراچی پولیس کے مطابق ساجد مسیحی اور ثناء آصف کو سر میں پیچھے سے ایک ایک گولی ماری گئی، ملزمان نے واردات کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا، جہاں سی سی ٹی وی نہ ہو، تاکہ وہ اپنی شناخت چھپاسکیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ثناء آصف اور ساجد کا تعلق گوجرانوالہ کے ایک گاؤں سے تھا، لڑکی کے بھائی وقاص نے 15جولائی کو اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا، جس میں ساجد سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق 15 جولائی کو درج ایف آئی آر کے مطابق، ثنا گھر سے اپنے چچا کے گھر جانے کے لیے نکلی تو اسے ساجد نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اغوا کر لیا۔

گوجرانوالہ میں درج اغوا کی ایف آئی آر میں درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کی عمر 17 سال ہے۔ تاہم، بوٹ بیسن تھانے میں درج قتل کی ایف آئی آر میں مقتولہ کا قومی شناختی نمبر درج ہے اور ساتھ ہی اس کی عمر 25 سال بتائی گئی ہے۔
ساجد مسیحی نے کراچی میں اسلام قبول کیا
ڈبلیو ٹی این کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ساجد مسیح نے 20 جولائے کو علامہ مولانا سید سجاد حسین بخاری کے پاس پہنچتے ہیں، وہاں انہیں کلمہ پڑھا کر اسلام کے دائرے میں داخل کروایا جاتا ہے۔

مولانا سید سجاد حسین بخاری کی سند کے مطابق ساجد مسیح نامی لڑکا 20 جولائی کو آفس میں تشریف لے آیا اور اور ان کے بار بار اسرار پر میں نے انہیں کلمہ طیبہ پڑھاکر دائرہ اسلام میں داخل کیا، جس کے بعد ان کا نام ساجد تجویز کیا، جوکہ انہیں پسند آیا اور ان کا اسلامی نام ساجد ہی رکھا گیا۔
گجرانوالا سے تعلق رکھنے والا جوڑا 20 جولائی کو کراچی کی ایک مقامی عدالت میں پسند کی شادی کرتا ہے، جہاں ان کا نکاح نامہ تیار کیا جاتا ہے ، نکاح نامے پر گواہان کے نام بھی موجود ہیں۔
نکاح نامے میں لڑکی نے موقف اپنایا ہے کہ وہ اپنی رضا خوشی سے ساجد سے نکاح کر رہی ہوں، کسی نے اغوا یا زور زبردستی نہیں کی ہے۔

واقعہ غیرت کے نام پر پیش آیا؟
ڈی آئی جی ساوْتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ یہ واقعہ غیرت کے نام پر پیش آیا ہے، جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول، اور خول برآمد ہوئے ہیں، ایک موبائل بھی ملا ہے، موبائل فون کی فارنزک جانچ جاری ہے، کال رکاڈنگ اور ڈیٹا کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقتولیں کے ساتھ آخر ہوا کیا ہے۔
دونوں کو سر کے پچھلے حصے میں گولی ماری گئی
یہ واقعہ تھانہ بوٹ بیسن کی حدود میں پیش آیا، پولیس نے مقتولین کی لاشیں جناح اسپتال منتقل کیں، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
جناح اسپتال نے میڈیکل لیگل رپورٹ میں بتایا ہے کہ ثناء آصف اور ساجد کو سر کے پچھلے حصے میں ایک ایک گولی ماری گئی ہے، جس کی وجہ سے دونوں کی موت واقع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز 2 بج کر 30 منٹ پر لاشیں جناح اسپتال لائی گئیں، مقتولیں کی عمریں 30 سے 35 سال کے درمیان ہیں، ثناء اور ساجد کی موت زیادہ خون بہہ جانے سے ہوئی ہے۔
ثناء کے اغوا کا مقدمہ درج کروانے والا بھائی گرفتار
کراچی پولیس کے مطابق گجرانوالا پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ ثناء آصف کے اغوا کا مقدمہ 15جولائی کو مقتولا کی بھائی وقاص کی جانب سے درج کروایا گیا تھا، مقدمے میں ساجد پر اغوا کا الزام لگایا گیا تھا
گوجرانوالا پولیس نے ثناءآصف کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ساجد اور ان کے دیگر کے گھروں پر چھاپے مارے، لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔
ثناء اور ساجد کے قتل کے بعد گجرانوالا پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کروانے والے لڑکی کے بھائی وقاص کو حراست میں لے لیا ہے، پولیس کے مطابق وقاص سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی کی بوٹ بیسن پولیس ثناء کے بھائی وقاص کی حوالگی کا کہہ سکتے ہے، کیونکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے وقاص سے تفتیش کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔