کراچی ( رپورٹر ) کراچی میں شوہر سے مبینہ اختلاف کی بنیاد پر اپنے بچوں کو ذبح کرنے والی عورت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، بچوں کو ذبح کئے جانے کے طریقہ واردات نے پولیس افسران کے بھی رونگٹے کھڑے کردیئے۔
2 روز قبل ڈیفنس خیابان مجاھد میں میں خاتون نے اپنے کمسن بیٹے اور بیٹی کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا تھا ۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمہ کے خلاف سابق شوہرغفران کی مدعیت میں درخشان تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے مقتول بہن اوربھائی کو ڈیفنس فیز ایٹ میں واقع قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔
بچوں کو قتل کرنے کے بعد وڈیو کال
ملزمہ خاتون کے سابق شوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ بچے اپنی والدہ کے پاس رہنے کے لیے گئے تھے، 14 اگست کی دوپہرڈھائی بجے کےقریب سابقہ اہلیہ ادیبہ نےفون کال کی اور سوال کیا کہ کیا تمہیں پتا چلا کہ میں نے کیا کیا ہے؟
سابق شوہر کے مطابق ’میرے ناں کہنے پر ادیبہ نے ویڈیو کال کی اور دکھایا کہ اس نے دونوں بچوں 8 سالہ ضرار اور 4 سالہ سمیحہ کو ذبح کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ‘ دونوں بچوں کو نیند میں نہیں بلکہ جاگتے ہوئے قتل کیا گیا ہے، ماں نے کچن کی چھری سے گھر کے واش روم میں پہلے بیٹے پھر بیٹی کو ذبح کیا اور گلا کاٹنے کے بعد بچوں کی لاشوں کو کمرے میں لاکر گود میں لے کر بیٹھ گئی‘ ۔
کیس کی ابتدائی رپورٹ
دوسری جانب اس کیس کی ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ خاتون علیحدگی اور بچوں کی حوالگی کو لے کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی، کچھ عرصہ قبل ملزمہ کی شوہر سے علیحدگی ہوگئی تھی۔
پولیس حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ خاتوں نے واردات کے بعد بچوں کے باپ اور رشیداروں کو سینڈ کینجانے والی تصاویر کے ساتھ ایک میسج ارسال کیا کہ جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کو آزاد کردیا۔
پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حراست میں لی جانے والی خاتون ادیبہ کی 9 سال قبل غفران سے شادی ہوئی تھی، خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اورخاتون کو دورے پڑا کرتے ہیں، اسی وجہ سے گزشتہ سال ستمبرمیں خاتون ادیبہ کو ان کے شوہرغفران نے طلاق دے دی تھی اورعدالت نے بچوں کی حوالگی والد غفران کے سپرد کردی تھی
خاتون کون ہے؟
پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پرمعلوم ہوا کہ خاتون لاہور کی رہائشی ہے، بچوں کے والد نجی کمپنی میں بڑے عہدے پر فائز ہیں جب کہ ملزمہ ادیبہ گھریلو خاتون ہے اور اکیلی بنگلے میں کرائے پر رہائش پذیر تھی۔
والد غفران اکثر اپنے بچوں کوان کی والدہ ادیبہ سے ملوانے کے لیے بھیجا کرتا تھا اورگزشتہ روز بھی والد نے بچوں کو والدہ ملنے کے لیے بھجوایا تھا۔