کراچی (بیورو رپورٹ) کراچی میں گھگھر پھاٹک کے نزدیک سفاکانہ انداز میں قتل کیے گئے میاں بیوی اور ان کے معصوم بیٹے کی لاشیں بلوچستان میں ان کے آبائی علاقے لسبیلہ پہنچا دی گئی ہیں، لیکن ورثا نے تدفین سے انکار کردیا ہے۔
نوجوان عبدالحمید ودھیو، ان کی بیوی سکینہ اور بیٹے عبدالنبی کو گذشتہ روز گھر میں کلہاڑیوں کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ایدھی فائونڈیشن کے مطابق لسبیلہ میں موجود مقتولین کے ورثا نے لاشیں وصول کرنے اور تدفین سے انکار کردیا۔
ورثاء کے انکار کے بعد تینوں مقتولین کی میتیں بلوچستان سے ایدھی سردخانے سہراب گوٹھ منتقل کی جا رہی ہیں۔
مقتول کے بھائی کی مدعیت میں تہرے قتل کا مقدمہ درج
دریں اثنا تہرے سفاکانہ قتل کا مقدمہ مقتول عبدالحمید کے بھائی کی مدعیت میں اسٹیل ٹائون تھانے پر درج کیا گیا ہے، دفعہ تین سو دو کے تحت درج شدہ مقدمے میں ایک سے زائد ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
مدعی نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بھائی، بھابھی اور بھتیجے کو رات دو بجے کلہاڑیوں کے وار کر کے بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا۔قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
تینوں مقتولین کی میتیں واپس سہراب گوٹھ سرد خانے لائی جارہی ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔میتوں کو گذشتہ رات تدفین کے لیے بلوچستاں کے علاقے لسبیلہ منتقل کردیا گیا تھا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ورثا کے انکار کے بعد میتیں سہراب گوٹھ سردخانے منتقل کی جا رہی ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ اسٹیل ٹائون محمد اسلم بلو نے گذشتہ روز ڈبلیو ٹی این کو بتایا تھا کہ عبدالحمید اور سکینہ کی شادی کے بعد بلوچستان کے ایک مقامی سردار نے معاملے کا جرگہ کرتے ہوئے نوجوان کو مجرم قرار دیا تھا، اور دو رشتے بطور ونی دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔
عبدالمجید اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ چند ماہ قبل کراچی آیا تھا، جہاں انہوں نے گھگھر کے قریب مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ مقتول نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ایک فیکٹری میں مزدوری کررہا تھا۔
تہرے قتل کی واردات کے بعد ملزمان بلوچستان فرار ہوگئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گذشتہ روزا واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ملزمان کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے اور آئی جی سندھ سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔
کراچی میں رواں ہفتے غیرت کے نام پر قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کراچی کلفٹن میں چائنہ پورٹ کے قریب گوجرانوالہ کے جوڑے ثنا اور ساجد کو قتل کر دیا گیا تھا۔
گوجرانوالہ کے رہائشی ساجد مسیح نے کراچی میں اسلام قبول کرنے کے بعد ثنا آصف سے شادی کی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ساجد مسیح کا نام ساجد رکھا گیا۔ ساجد اور ثناء کی گولیوں سے چھلنی لاشیں چائنہ پورٹ کے قریب ملی تھیں۔
گوجرانوالہ پولیس نے دوہرے قتل کیس میں مقتول ثناء کے بھائی وقاص کو گرفتار کر لیا ہے۔