کراچی کے علاقے گھگھر پھاٹک کے قریب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی اور ان کے معصوم بیٹے کو بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے تہرے قتل کی یہ لرزہ خیز واردات غیرت کے نام پر کی گئی ہے۔
مقتولوں کی شناخت عبدالحمید ودھیو، ان کی اہلیہ سکینہ اور بیٹے عبدالنبی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق قتل کیے گئے عبدالحمید اور سکینہ کی شادی ۸ سال قبل ہوئی تھی اور انہیں غیرت کے نام پرمعصوم بیٹے سمیت گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔
تھانہ اسٹیل ٹاؤن کے ایس ایچ او محمد اسلم بلو کا کہنا ہے کہ واقعہ گھگھر پھاٹک کے قریب ایک گھر میں پیش آیا، جہاں میاں بیوی اور ان کے بیٹے کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق عبدالحمید اور سکینہ کی شادی کے بعد بلوچستان کے ایک مقامی سردار نے معاملے کا جرگہ کرتے ہوئے نوجوان کو مجرم قرار دیا تھا، اور دو رشتے بطور ونی دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔
عبدالمجید اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ چند ماہ قبل کراچی آیا تھا، جہاں انہوں نے گھگھر کے قریب مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ مقتول نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ایک فیکٹری میں مزدوری کررہا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان تہرے قتل کی واردات کے بعد بلوچستان فرار ہوگئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حکم دیا ہے کہ جرم میں ملوث قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ جرم میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ سے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
کراچی میں رواں ہفتے غیرت کے نام پر قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کراچی کلفٹن میں چائنہ پورٹ کے قریب گوجرانوالہ کے جوڑے ثنا اور ساجد کو قتل کر دیا گیا تھا۔
گوجرانوالہ کے رہائشی ساجد مسیح نے کراچی میں اسلام قبول کرنے کے بعد ثنا آصف سے شادی کی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ساجد مسیح کا نام ساجد رکھا گیا۔ ساجد اور ثناء کی گولیوں سے چھلنی لاشیں چائنہ پورٹ کے قریب ملی تھیں۔ گوجرانوالہ پولیس نے دوہرے قتل کیس میں مقتول ثناء کے بھائی وقاص کو گرفتار کر لیا ہے۔