کراچی میں وکلا کا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش، حکومت کو ہفتے کا الٹیمیٹم

فہرستِ مضامین

رپورٹ: اسحاق سرکی

کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف سکھر میں ببرلوء کے مقام پر 12 دنوں تک دھرنا دینے والے سندھ لایئرز ایسو سی ایشن کے جانب سے آج کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا گیا ہے۔

اس دھرنے میں کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ، رحمان کورائی اور دیگر وکلا شامل ہیں، جب کہ انتظامیہ نے کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کے اضافی نفری کو طلب کر رکھا ہے۔

کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ نے دھرنے کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ حکومت سندھ کے ترجمان (میئر کراچی) مرتضیٰ وہاب کے سامنے 8 مطالبات پیش کیے ہیں،جن میں کارپوریٹ فارمنگ سے متعلق کیے گئے مذاکرات پر عملدرآمد کرنے، مورو واقعے کی شفاف انکوائری کروانے اور 26 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کروانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

وکلا نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے سنیچر تک مہلت مانگی ہے، اگر مطالبات نہ مانے گئے تو پھر آئندہ کی حکمت عملی مرتب کریں گے۔

احتجاج کہاں سے شروع ہوا؟

وکلا نے سندھ ہائی کورٹ سے ریلی نکالی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا، پولیس نے مظاہرین کو ریڈ زون میں جانے سے روکنے کے لیے اضافی نفری طلب کی، جب کہ وکلا کے دھرنے میں سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھے والے وکلا نے شرکت کی ہے۔

وکلا کے مطالبات میں کیا ہے؟

دھرنے سے خطاب کے دوران وکلا نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ بند کی جائے،26 ویں آئینی ترمیم واپس یا (ختم) کی جائے، سندھ کی زمینیں حقدار کاشتکاروں کے حوالے کی جائیں، سندھ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے۔

وکلا نے کہا کہ نہروں کا منصوبہ کسی صورت قبول نہیں ہے، دریائے سندھ کے پانی پر سندھ کے لوگوں کا حق ہے، اور وہ اسے ریڈ لائین سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب وکلا کی جانب سے حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے، جس میں حکومت کو ہفتے تک کی مہلت دی گئی ہے۔ عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو آئندہ کے حکمت عملی طے کریں گے۔

نہروں کا مسئلہ تو حل ہوگیا تھا؟

دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے وکلا سے مذاکرات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ اس قبل ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ کی قیادت میں دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے خلاف 12 روز تک دھرنا دیا گیا تھا۔

حکومت سندھ نے وکلا سے مذاکرات کیے تھے، جس کے بعد مشترکہ مفادات کاؤنسل میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبوں کی رضامندی کے بغیر دریائے سندھ سے کوئی نئی نہر نہیں نکالی جائیگی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں