کراچی_ رپورٹ: اسحاق سرکی: سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس اہلکار کو ان کی گھر کی دہلیز پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، جاں بحق پولیس اہلکار نے مرنے سے چند روز قبل خطرناک ڈاکوؤں کو گرفتار کیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ ملیر کے علاقے بن قاسم میں پیش آیا، اے ایس آئی محمد خان ابڑو گھر کے باہر موجود تھے کے موٹرسائیکل پر سوار ملزمان نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق محمد خان ابڑو اسٹیل ٹاؤن تھانے میں بطور اے ایس آئی تعینات تھے، اور اُسے گھر کے باہر اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ سادہ کپڑوں میں تھے۔
پولیس کے مطابق ماضی میں بھی پولیس اہلکار پرفائرنگ کی گئی تھی، محمد خان ابڑو نے خطرناک ڈاکوؤں کو پکڑا اور اپنی مدعیت میں تھانہ اسٹیل ٹاؤن میں مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔
سر اور سینے میں گولی ماری گئی
پولیس حکام کا بتانا ہے کہ جائے وقوعہ سے پانچ خول ملے ہیں، اے ایس آئی محمد شان ابڑو کو تین گولیاں لگیں جس میں سے دو سینے اور ایک سر میں ماری گئی ہے۔
ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو مین بتایا کہ اے ایس آئی محمد خان ابڑو کو تین سے زائد گولیاں ماری گئیں۔ جائے وقوعہ کے اطراف کہیں بھی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں ہیں، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
مقتول نے مقدمے میں آج ہی ضمانت کروائی تھی
ڈی ایس پی عامر حمید نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ شہید کے بھائیوں سمیت اہلخانہ پولیس فورس میں ہیں، ابتدائی ملعومات کے مطابق مقتول کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
لواحقین نے کہا کہ شہید اے ایس آئی کے خلاف گزشتہ روزاسٹیل ٹاون میں مقدمہ درج ہوا تھا اور وہ آج عدالت سے ضمانت لینے کے بعد اپنے بھائی جاویڈ ابڑو کے ساتھ گھر آئے تھے، نامعلوم افراد نے گاڑی سے اترتے ہی فائرنگ کردی۔
محمد خان ابڑو نے سوگواران میں چار بچے اور بیوہ چھوٹی ہے جبکہ اُن کا بڑا بیٹا قانون نافذکرنے والےادارے کا اہلکار ہے،جس کی تعیناتی اس وقت گلگلت میں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر میں اے ایس آئی محمد خان ابڑو کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے پر دلی افسوس کا اظہار کیا، انہون نے آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے شہید اے ایس آئی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔