کراچی میں پولیس حراست کے دوران مبینہ تشدد سے نوجوان ہلاک، 7 اہلکار معطل

فہرستِ مضامین

کراچی: اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد کے باعث عرفان نامی نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

لواحقین کے مطابق عرفان کا تعلق احمد پور شرقیہ، بہاولپور سے تھا اور وہ پہلی مرتبہ سیر و تفریح کے لیے کراچی آیا تھا۔ بدھ کی صبح وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے عائشہ منزل گیا، جہاں سے ایس آئی یو اہلکاروں نے چاروں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد چاروں کے موبائل فون بند کر دیے گئے اور وہ مختلف مقامات پر عرفان کو تلاش کرتے رہے۔ جمعرات کی شام عرفان کے چچا کو فون کر کے ایس آئی یو دفتر بلایا گیا، جہاں انہیں عرفان کی موت کی اطلاع دی گئی۔

لواحقین نے الزام عائد کیا کہ عرفان کی موت ایس آئی یو پولیس کے تشدد کے باعث ہوئی، اور وزیرِ اعلیٰ سندھ و آئی جی سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

پولیس حکام کے مطابق ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تین اے ایس آئی سمیت سات اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عرفان کی لاش کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی نگرانی میں کرایا جائے گا، جس کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں