اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایت پر کل ملک بھر میں مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
پورے ملک میں صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔ یومِ سیاہ کے موقع پر مختلف سرکاری و نجی تقریبات، سیمینارز اور ریلیاں منعقد ہوں گی۔
خیبرپختونخوا حکومت نے بھی 27 اکتوبر کو ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ صوبے بھر میں صبح 10 بجے یہ خاموشی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر اختیار کی جائے گی۔
ایک منٹ کی یہ خاموشی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاجی سلسلے کا حصہ ہوگی۔
پس منظر:
27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا، جب اُس وقت کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ نام نہاد “الحاق” کے معاہدے پر دستخط کیے، جسے کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اسی دن بھارتی فوج نے سری نگر ایئرپورٹ پر اتر کر وادی پر قبضے کا آغاز کیا۔
پاکستان اور کشمیری عوام نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور تقسیمِ ہند کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ کشمیر ایک متنازع علاقہ تھا جس کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا تھا۔
پاکستان ہر سال 27 اکتوبر کو “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتا ہے تاکہ عالمی برادری کو یاد دلایا جا سکے کہ بھارت نے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبا رکھا ہے۔ اس روز ملک بھر میں ریلیاں، جلسے اور اظہارِ یکجہتی کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔