خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور پاک افغان سرحدی خطے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور ٹل کے علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کیں، جن کے دوران 9 دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج اور اس سے وابستہ دہشتگرد گروہوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ سرحدی علاقے میں 3 اہداف کو درست نشانے کے ساتھ تباہ کیا گیا، جن میں خودکش بمباروں کی تربیت کا مرکز بھی شامل تھا۔ کارروائی میں متعدد خودکش بمباروں سمیت مزید 28 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں کے مراکز اور ٹھکانوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ ضمنی نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان کو لاحق دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر انسداد دہشتگردی مہم ’’غضب لِلحق‘‘ جاری رہے گی، جبکہ سکیورٹی فورسز کا مقصد غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ ہے۔