گاڑیوں میں اجرک والی نمبر پلیٹ لگانے کی تاریخ میں تیسری مرتبہ توسیع

فہرستِ مضامین

کراچی: نئی نمبر پلیٹ کی رجسٹریشن کا معاملہ کراچی میں تیزی سے پھیل گیا ہے، جہاں شہری اپنی گاڑیوں کے لیے اجراک ڈیزائن والی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، وہیں سندھ حکومت نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ تبدیل کرنے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔

محکمہ ایکسائز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں کی نمبر پلیٹ تبدیل کرنے کی تاریخ 14 اگست سے بڑھا کر 31 اکتوبر کردی گئی ہے۔

اس حوالے سے بلاول ہاوس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ کی ملاقات ہوئی۔

اعلامیہ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ کو ہدایات جاری کیں کہ عوام کی سہولت کے پیش نظر سیکیورٹی فیچر والی نمبر پلیٹوں کو نصب کرنے کی ڈیڈ لائن میں اضافہ کیا جائے، جس کے بعد محکمہ ایکسائز کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

اجرک والی نمبر پلیٹ کیوں ضروری؟

سندھ حکومت نے صوبے میں بدامنی کی روک تھام کے لیے ایک نئی نمبر پلیٹ متعارف کرائی ہے، جس پر اجرک کی پٹی لگی ہوئی ہے۔ یہ پٹی روشنی پڑنے پر رات میں بھی چمکتی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں میں بآسانی نظر آتی ہے، جس سے موٹر سائیکل یا کار کی شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ پرانی نمبر پلیٹس کیمرے میں نہیں آتیں، اسی وجہ سے وارداتوں کے بعد ملزمان فرار ہو جاتے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کا کہنا ہے کہ خصوصی فیچر کی حامل اجرک والی نمبر پلیٹ 2022 میں لانچ ہوئی، پچھلے 3 سال کے دوران ہزاروں گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو یہ نمبر پلیٹ دی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ یہ سکیورٹی فیچرڈ نمبر پلیٹ ہے جو سیف سٹی پروجیکٹ سے منسلک ہے، پچھلے ایک سال سے میں اسمبلی کے فلور پر اور میڈیا کے ذریعے بتا چکا ہوں کہ مستقبل میں تمام شہریوں کو یہ والی نمبر پلیٹ لگانی ہوگی۔

اجرک والی نمبر پلیٹ پر تنقید

ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما آفاق احمد نے اجرک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اجرک ہماری ثقافت نہیں ہے، اس لیے ہم ایسی نمبر پلیٹ نہیں لگائیں گے“ ۔ انہوں نے اپنی گاڑی پر پاکستان کے جھنڈے کی نمبر پلیٹ لگانے کی وڈیو بھی جاری کی تھی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آفاق احمد نے نمبر پلیٹ پر اجرک والی پٹی پر اپنے ہاتھوں سے پاکستانی پرچم والا اسٹیکر چسپاں کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ عوام کے پاس آپشن ہونا چاہیے کہ وہ اجرک والی پلیٹ لگائیں یا قومی پرچم والی، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نمبر پلیٹ اجرا کی فیس لائف ٹائم وصول کی جاتی ہے ، دوبارہ رقم کا مطالبہ کرنا غلط ہے ۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

اجرک والی نمبر پلیٹ لگانے کی مخالفت کرنے پر سوشل میڈیا صارفیں نے آفاق احمد کو آڑے ہاتوں بھی لیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیں سب سے عزیز ہے، لیکن اجرک بھی سندھ کی ثقافت ہے، اس کی مخالفت سے عیاں ہے کے ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما کو سندھ سے لگاو نہیں ہے۔

صارفین کہتے ہیں کافی اردو بولنے والے افراد خود کو سندھی بھی کہلوانے لگے ہیں، لیکن اکثریت سندھ کی ثقافت کو تسلیم نہیں کرتی اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پر لگی اجرک کی پٹی کو بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ امید ہے کہ ہمارے اردو بولنے والے بھائیوں کو یہ بات سمجھ آ جائے گی کہ پیپلز پارٹی اور سندھ دو الگ چیزیں ہیں، اور پیپلز پارٹی کی مخالفت میں سندھ کی ثقافت پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں