گلگت میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب،کئی دیھات زیر آب، چرواہے نے سینکڑوں جانیں بچائیں

فہرستِ مضامین

غذر ( ویب ڈیسک   ) گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کئی دیھات زیر آب آگئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق  گوپس میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب آیا اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، راؤشن گاؤں کی پوری آبادی محصور ہوکر رہ گئی، تیس مکان مکمل طور پر ڈوب گئے ہیں، لینڈ سلائیڈنگ سے گاؤں راؤشن میں پہنسے 30 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔

غذر پولیس کے مطابق راؤشن گاؤں میں تقریباً 50 افراد محصور ہوگئے، جنہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

انتظامیہ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد نشیبی علاقوں کے لیے خطرات کم ہوگئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر غذر کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ابھی تک جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی،

چرواہے نے انسانی جانیں بچائیں

دوسری جانب پھاڑ پر موجود چرواہے نے گلیشیئر پھٹنے کی گاؤں والوں کو بروقت ٹیلیفون پر اطلاع دیگر انسانی جانیں بچائیں۔

لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پھاڑ پر پہنسے چرواہے اور اس کے خاندان کو پاک فوج نے ریسکیو کرلیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ چرواہے کے اطلاع کے بعد رات کو ہی گھر خالی کردیے تھے، جس کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلیشئیر پھٹنے سے پانی نے جھیل کی شکل اختیار کرلی ہے، جس کے باعث متعدد دیہات اور گھر زیر آب آگئے۔

ترجمان کے مطابق فی الحال سیلاب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم دریا کے بھاؤ کے رکنے سےمزید تباہی کا خدشہ ہے، البتہ 50 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے فوری طور پر ہیلی کاپٹر روانہ بھی کر دیا گیا ہے۔

گلیشیئر کیوں پھٹتے ہیں؟

گلیشیئر برف کے بڑے ذخیرے ہوتے ہیں جو پہاڑوں یا قطبی علاقوں میں جمع ہوتے ہیں۔ جب یہ پھٹتے” ہیں یا ٹوٹتے ہیں، تو اس عمل کو عام زبان میں “گلیشیئر کا پٹھنا” یا “گلیشیئر کا ٹوٹنا” کہا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہوتی ہیں۔

ماہر موسمیات کے مطابق جیسے جیسے دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیئرز کی برف پگھلنے لگتی ہے، اندر سے پانی جمع ہوتا ہے جو دباؤ بناتا ہے اور گلیشیئر پھٹ سکتا ہے۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ زیادہ بارش یا برف گلیشیئر پر اضافی وزن ڈالتی ہے، اگر نیچے برف نرم ہو یا پانی موجود ہو تو گلیشیئر پھسل سکتا ہے یا پھٹ سکتا ہے،برف کے نیچے کی سطح پر اگر چٹانیں یا مٹی کمزور ہوں تو گلیشیئر پھسل کر نیچے آ سکتا ہے۔

 ماہرین نے مزید بتایا کہ پہاڑوں میں زلزلے یا لینڈ سلائیڈنگ گلیشیئر کو غیر مستحکم کر سکتی ہے، یہ اچانک ٹوٹ پھوٹ یا “گلیشیئر برسٹ” کا سبب بن سکتی ہے، بعض اوقات گلیشیئر کے نیچے یا آگے پانی کی جھیل بنتی ہے، جب یہ جھیل اپنا کنٹرول کھو دیتی ہے تو اچانک پانی بہہ نکلتا ہے، جس سے گلیشیئر کا حصہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

گلیشئیر پھٹنے سے نقصانات

گلیشیئر پھٹنے سے شدید سیلاب آتا ہے جسے flash floods) )کہا جاتا ہے،  جب گلیشیئر پھٹتے ہیں تو دریا کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہوتا ہے، دیہاتوں، سڑکوں اور انفرا اسٹرکچر اور انسانی جانیوں کے ضیاع کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق شمالی پاکستان میں تقریباً 3,044 گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 کو خطرناک اور 4–5 کو فوری خطرے میں قرار دیا گیا ہے۔

2022 میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید برسات اور گلیشیئر کے پگھلنے نے ملک میں تاریخی سیلاب برپا کیے، جہاں 1,760 افراد ہلاک اور 40 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں