پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے، جبکہ صوبے کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر کے مقابلے میں کم ہیں، لیکن انہیں مناسب مراعات دینے کے بجائے اپنے تابع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس کو ’’ٹائیگر فورس‘‘ بنانا چاہتی ہے اور آئی جی، ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز کی تقرریاں بھی اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول وہ ایسے قانون کے خلاف مزاحمت کریں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے میں کرپشن، لاقانونیت اور دہشتگردی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اقدام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر مشاورت کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لانگ مارچ کی کوئی واضح تیاری نظر نہیں آ رہی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اسلام آباد میں موجود ہیں، جبکہ بعض کارکن خود گرفتاریاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی آج یا کل لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔