کیف ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) رات کے وقت روسی ڈرون اور میزائل حملے نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کم از کم 15 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں، جب کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے، حکام نے تصدیق کی۔
جمعرات کی صبح کے اوائل میں زوردار دھماکوں سے کیف لرز اٹھا، جب روسی حملوں نے شہر کے سات اضلاع میں عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جن میں یورپی یونین کے مشن اور برٹش کونسل کے دفاتر بھی شامل ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 48 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جہاں امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی الاسکا میں جنگ کے خاتمے پر بات چیت ہوئی تھی۔ یہ کیف پر پہلا بڑا مشترکہ روسی ڈرون اور میزائل حملہ تھا۔
روس کا اب تک کا بڑا فضائی حملا
یوکرینی فضائیہ کے مطابق، یہ روس کی جانب سے یوکرین پر اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک تھا، جس میں رات بھر ملک بھر میں 598 ڈرونز، فریب دینے والے آلات اور 31 میزائل داغے گئے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ روس کی امن مذاکرات کو مسترد کرنے کا واضح ثبوت ہے۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تچینکو کے مطابق، مرنے والوں میں 2 سے 17 سال کے چار بچے بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا ’سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ آج رات کیف روسی دہشتگرد ریاست کے شدید حملے کی زد میں ہے۔
کیف کے میئر ویٹالی کلیچکو نے اعلان کیا کہ جمعہ کو حملے کے متاثرین کے لیے یوم سوگ منایا جائے گا، سرکاری عمارتوں پر جھنڈے سرنگوں ہوں گے اور عوامی تقریبات پر پابندی ہو گی۔
یورپی یونین اور برٹش کونسل کے دفاتر کو نقصان
حملے میں کیف میں یورپی یونین کے مشن اور برٹش کونسل کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ روسی سفیر کو طلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا سفارتی مشن کبھی بھی ہدف نہیں ہونے چاہییں۔ یہ حملہ امن کی کوششوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ روس کو قتل و غارت بند کر کے مذاکرات کرنے چاہئیں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر تصدیق کی کہ برٹش کونسل کو نقصان پہنچا ہے اور کہا کہ ان کے خیالات ان تمام متاثرین کے ساتھ ہیں جو بے معنی روسی حملوں کا شکار ہوئے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے بھی ان حملوں کی مذمت کی اور روس پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات میں شامل ہو، بصورت دیگر مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرے گا۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اسے ’’سوچی سمجھی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ یورپی یونین خوفزدہ نہیں ہو گی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حملے کو دہشت اور بربریت کا عمل قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر ’’منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی۔
ملبے سے تین افراد کو زندہ نکالا گیا
کیف کے رہائشی الیگزینڈر خیلکو نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اُس جگہ پہنچے جہاں ان کی بہن کا رہائشی اپارٹمنٹ میزائل سے تباہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے ملبے کے نیچے سے چیخیں سنیں اور تین افراد کو زندہ نکالا۔
انہوں نے کہا یہ غیر انسانی ہے، عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے جسم کا ہر حصہ چاہتا ہے کہ یہ جنگ ختم ہو۔ ہر بار سائرن بجتا ہے تو دل دہل جاتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روسی حملے 13 مقامات پر ریکارڈ کیے گئے اور ملبہ 26 علاقوں میں گرا۔ انہوں نے کہا کہ 598 میں سے 563 ڈرونز اور 31 میں سے 26 میزائل مار گرائے گئے۔
یوکرین کے قومی بجلی کے ادارے کے مطابق، حملوں سے کئی علاقوں میں توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچا جس کے باعث وسطی ونیتسیا خطے میں 60,000 گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔
دوسری جانب، روسی وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرینی ڈرونز نے ملک کے کم از کم سات علاقوں کو نشانہ بنایا۔ روسی ایئر ڈیفنس نے 100 سے زائد ڈرون تباہ کیے، روس کے روستوو علاقے میں ڈرون ملبہ گرنے سے 80 سے زائد افراد کو نکالا گیا۔
زیلنسکی کی عالمی برادری سے اپیل
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایکس پر لکھا کہ روسی حملے ’دنیا بھر میں ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو مہینوں سے جنگ بندی اور امن کی اپیل کر رہے تھے، انہوں نے روس پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا اور چین و ہنگری کا نام لے کر کہا کہ وہ ان ممالک سے ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا قتل کیے گئے بچوں پر دنیا کی خاموشی ناقابل برداشت ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے جواب آنا چاہیے۔ روس صرف طاقت اور دباؤ کو سمجھتا ہے۔ ہر حملے کا جواب ماسکو کو محسوس ہونا چاہیے۔