پئرس ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) فرانس نے 128 سال بعد تین انسانی کھوپڑیاں مڈغاسکر کو واپس کر دیں، جن میں ایک مبینہ طور پر مڈغاسکر کے ایک بادشاہ کی ہے جنہیں فرانسیسی فوج نے قتل کیا تھا
جمہوریہ مڈغاسکر، ایک جزیرہ ملک ہے جس میں مڈغاسکر کا جزیرہ اور متعدد چھوٹے جزیرے شامل ہیں۔ افریقہ کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع یہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا جزیرہ اور دوسرا سب سے بڑا جزیرہ ملک ہے۔
فرانس نے مڈغاسکر کو تین انسانی کھوپڑیاں واپس کر دی ہیں جو پیرس کے ایک میوزیم میں گزشتہ 128 برس سے محفوظ تھیں۔ یہ کھوپڑیاں نوآبادیاتی دور میں لوٹی گئی تھیں، جن میں ایک کھوپڑی مڈغاسکر کے ایک بادشاہ کی سمجھی جا رہی ہے جنہیں فرانسیسی فوج نے سر قلم کر کے قتل کیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ کھوپڑی جو غالباً بادشاہ توئیرا کی ہے، اور دو دیگر کھوپڑیاں جو سکالاوا نسل سے تعلق رکھتی ہیں، ایک خصوصی تقریب کے دوران فرانس کی وزارتِ ثقافت نے باقاعدہ طور پر مڈغاسکر کے حوالے کیں۔
بادشاہ کا سر قلم
فرانسیسی فوج نے 1897 میں ایک قتلِ عام کے دوران بادشاہ توئیرا کا سر قلم کیا، اور ان کا سر فرانس لے جایا گیا جہاں اسے پیرس کے نیشنل ہسٹری میوزیم میں دیگر سیکڑوں نوآبادیاتی دور کی باقیات کے ساتھ رکھ دیا گیا.
فرانسیسی وزیرِ ثقافت راشیڈا داتی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ کھوپڑیاں ایسے حالات میں قومی ذخیرے کا حصہ بنیں جو انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی اور نوآبادیاتی تشدد کی عکاسی کرتے ہیں۔
مڈغاسکر کی وزیرِ ثقافت وُلامیرانتی ڈونا مارا نے واپسی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کھوپڑیوں کی واپسی مڈغاسکر کے لیے ایک بہت اہم لمحہ ہے۔ ان کی چوری پچھلے 128 سالوں سے ہمارے جزیرے کے دل میں ایک کھلا زخم بنی ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا یہ کھوپڑیاں کوئی قدیم نوادرات یا مجموعے کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ نادیدہ اور ناقابلِ فراموش رشتہ ہیں جو ہمارے ماضی کو حال سے جوڑتا ہے۔
تقریب کا احوال
تقریب کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تین روایتی کپڑوں میں لپٹی ہوئی لکڑی کی صندوقچیاں سنجیدہ انداز میں ایک جلوس کی شکل میں فرانس کی وزارتِ ثقافت کی عالی شان عمارت میں لائی گئیں۔
فرانسیسی وزیر کے مطابق، ایک مشترکہ سائنسی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ یہ کھوپڑیاں سکالاوا قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن وہ صرف قیاس ہی کر سکتے ہیں کہ ان میں سے ایک واقعی بادشاہ توئیرا کی ہے۔
یہ واقعہ انسانی باقیات کی واپسی کا پہلا موقع ہے جو اُس قانون کے تحت ممکن ہوا جو فرانس نے 2023 میں نوآبادیاتی باقیات کی واپسی کے لیے منظور کیا تھا۔
انسانی کھوپڑیاں
پیرس کے موزے دی لوم میں موجود 30,000 نمونوں میں سے ایک تہائی انسانی کھوپڑیوں اور ڈھانچوں پر مشتمل ہیں، جو دنیا بھر سے لائے گئے تھے۔ آسٹریلیا، ارجنٹائن اور دیگر ممالک نے بھی اپنے آبا و اجداد کی باقیات کی واپسی کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپریل میں مڈغاسکر کے دارالحکومت انتاناناریوو کے دورے کے دوران فرانس کی نوآبادیاتی خونی اور افسوسناک” تاریخ پر معافی مانگنے کی بات کی تھی۔ مڈغاسکر نے 1960 میں 60 سال سے زائد فرانسیسی نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔واپس کی گئی یہ کھوپڑیاں آئندہ اتوار کے روز مڈغاسکر پہنچیں گی، جہاں انہیں دفنایا جائے گا۔
وزیر مارا نے بتایا کہ مڈغاسکر کی حکومت ان باقیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کرے گی، جو بادشاہ توئیرا کے قتل کی سالگرہ کے موقع پر، اگست کے آخر میں منعقد کی جائے گی۔