کراچی ( ویب ڈیسک ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی کابینہ کے تین ارکان کو تین جامعات کا پرو چانسلر مقرر کر دیا، جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
جامعات و بورڈز کے سیکریٹری عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کو جنرل یونیورسٹیز کا پرو چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کو انجینئرنگ یونیورسٹی کا پرو چانسلر مقرر کیا گیا ہے، اور صوبائی وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار کو لاء یونیورسٹیز کا پرو چانسلر بنایا گیا ہے۔ تاہم جاری نوٹیفکیشن میں زرعی اور میڈیکل یونیورسٹیز کے پرو چانسلر کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ ان کا پرو چانسلر کون ہوگا۔
تعلیمی ماہر محمد قاسم راجپر نے ڈبلیو ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں صوبائی وزرا کو بطور پرو چانسلر مقرر کرنا معمول کی بات ہے۔ یونیورسٹیوں کا چانسلر یعنی وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ کے کسی بھی رکن کو پرو چانسلر مقرر کر سکتا ہے۔
یونیورسٹیز سے متعلق قانون
محمد قاسم راجپر کے مطابق 1972 میں سندھ میں صرف تین یونیورسٹیاں تھیں، سندھ یونیورسٹی، این ای ڈی اور کراچی یونیورسٹی۔ اُس وقت ان یونیورسٹیوں کا چانسلر گورنر ہوتا تھا اور پرو چانسلر وزیر تعلیم ہی ہوا کرتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2018 میں سندھ حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے تحت یونیورسٹیوں کا چانسلر گورنر کے بجائے وزیر اعلیٰ کو بنایا گیا۔
ان کے مطابق 2018 میں ہونے والی قانون سازی میں صرف لفظ “گورنر” کو بدل کر “چیف منسٹر” یعنی “وزیر اعلیٰ” لکھا گیا، اور قانون میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ چانسلر اپنی کابینہ کے کسی بھی رکن کو پرو چانسلر مقرر کر سکتا ہے۔
محمد قاسم راجپر کے مطابق کابینہ ارکان کو یونیورسٹیوں کا پرو چانسلر مقرر کرنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں، سندھ حکومت نے ماضی سے جاری قانون کے تحت ہی یہ تقرریاں کی ہیں۔ پہلے صرف تین یونیورسٹیاں تھیں، اب ان کی تعداد بڑھ چکی ہے، اس لیے وزیر اعلیٰ نے بطور چانسلر اپنے پرو چانسلر مقرر کیے ہیں۔
یونیورسٹیوں سے متعلق قانون میں ترمیم
9 مارچ 2018 کو سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی میں “سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹیٹیوٹ لاز ترمیمی بل 2018” پیش کیا، جس کے تحت وزیر اعلیٰ کو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا چانسلر بنانے کی سفارش کی گئی۔
یہ بل 10 مارچ 2018 کو منظور کیا گیا، جس کے بعد گورنر کے بجائے سندھ کا وزیر اعلیٰ یونیورسٹیوں کا چانسلر بن گیا، اور گورنر کے اختیارات بھی محدود ہو گئے۔
قانون میں ترمیم کے بعد اہم انتظامی اختیارات، جیسے وائس چانسلر ، پرو وائس چانسلر کی تقرری، اور ڈائریکٹر فنانس جیسے اہم عہدوں کی تعیناتی کے اختیارات گورنر سے وزیر اعلیٰ کو منتقل کر دیے گئے۔
بیوروکریٹ بھی بن سکے گا چانسلر
دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی نے صوبائی کابینہ کے منظور کردہ “جامعات ایکٹ ترمیمی بل 2025” کی منظوری دی، جس کے تحت کوئی بھی بیوروکریٹ سرکاری یونیورسٹی میں وائس چانسلر (وی سی) مقرر ہو سکتا ہے۔
اس بل کی منظوری سے پہلے یونیورسٹیوں میں صرف پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والے سینئر اساتذہ کو ہی وائس چانسلر مقرر کیا جاتا تھا، اور یہی اصول دنیا بھر میں رائج ہے۔
سندھ حکومت نے قانون میں ترمیم کر کے گریڈ 21 کے سرکاری بیوروکریٹ کو وائس چانسلر بننے کی اجازت دی، اور وائس چانسلر کے لیے پی ایچ ڈی ڈگری کی شرط بھی ختم کر دی گئی۔
سندھ حکومت کی جانب سے بیوروکریٹس کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنانے سے متعلق قانون سازی پر اپوزیشن جماعتوں سمیت مختلف طبقات نے تنقید کی تھی۔