50 لاکھ روپے کا مبینہ فراڈ، اسلام آباد میں طالبہ کی خودکشی

فہرستِ مضامین

اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ پولیس کے مطابق طالبہ نے امریکا جانے کے لیے ایک ایجنٹ کو 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے، تاہم ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات جعلی نکلنے پر وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبہ بیرونِ ملک جانے کی خواہش رکھتی تھی اور اس مقصد کے لیے اس نے ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا تھا۔ امریکا جانے کے انتظامات کے سلسلے میں طالبہ نے مبینہ طور پر ایجنٹ کو 50 لاکھ روپے دیے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایجنٹ کی جانب سے فراہم کی گئی دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد طالبہ پریشانی کا شکار ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ فراڈ اور رقم کے نقصان کے باعث وہ ذہنی دباؤ میں تھی۔ اسی صورتِ حال کے تناظر میں پولیس نے اس کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اطلاع دی ہے۔

واقعے نے بیرونِ ملک تعلیم یا سفر کے خواہش مند افراد کو ایجنٹوں کے ذریعے دھوکا دہی سے لاحق خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ بیرونِ ملک جانے کے لیے بڑی رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں، دستاویزات اور ایجنٹ کی قانونی حیثیت کی تصدیق نہایت اہم ہے۔

تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ مبینہ ایجنٹ کون ہے، رقم کس طریقے سے وصول کی گئی اور اس معاملے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔

اہم بات: پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ کی موت اور مبینہ مالی فراڈ کے درمیان تعلق زیرِ تفتیش ہے۔ واقعے کی مکمل تفصیلات، ذمہ دار افراد کی شناخت اور قانونی کارروائی سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں