شہید ناظم جوکھیو کی بیوہ شیرین جوکھیو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دوسری شادی نہیں کی ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں شیرین جوکھیو نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم ایک وی لاگر ایسی جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔ وی لاگر نے اپنی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نے اپنے دیور سے شادی کر لی ہے۔
شیرین جوکھیو نے کہا کہ میرا سسرال کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے، میری ساری توجہ اپنے بچوں پر ہے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ میرے شوہر ناظم جوکھیو کا خون پیسوں کے عوض بیچ دیا گیا۔
ناظم جوکھیو کا قتل
نومبر 2021 میں، ملیر کے رہائشی نوجوان ناظم جوکھیو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں وہ ملیر کے میمن گوٹھ میں کچھ غیر ملکی افراد کو پرندوں کے شکار سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد اس کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔

نوجوان ناظم الدین عرف ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو نے قتل کا مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملیر کے سالار گوٹھ میں کچھ غیر ملکی شہری مبینہ طور پر تلور کے شکار کے لیے آئے تھے۔ اس کے بھائی ناظم جوکھیو نے انہیں شکار سے روکا اور ان کی ویڈیو بنائی۔
جام اویس جوکھيو پر ناظم جوکھیو کو بلا کر قتل کرنے کا الزام
مدعی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ اسی رات 11 بجے کے قریب ناظم جوکھیو اور اس کے بھائی کو پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی کے رکن جام اویس عرف گھرام نے اپنے گھر بلایا، اور جب وہ وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ناظم جوکھیو کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈنڈوں کا وار کرکے قتل کر دیا تھا۔

ایف آئی آر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر یونس بٹ کا کہنا تھا کہ اسے معراج نامی شخص نے ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ جام گوٹھ کے باہر ایک شخص کی تشدد زدہ لاش ملی ہے، جسے ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
شیرین جوکھيو کی معافی اور مبینہ ڈیل کی افواہیں
ناظم جوکھیو قتل کیس تقریباً ایک سال تک عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا، جس کے بعد ناظم جوکھیو کی بیوہ شیرین جوکھیو نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تمام ملزمان کو معاف کر دیا۔
ایک ویڈیو بیان میں شیرین جوکھیو نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں تمام ملزمان کو معاف کر رہی ہے، اور انہیں کسی قسم کی ڈیل کی کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ اس نے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔
شیرین جوکھیو کے اس بیان کے بعد مختلف اوقات میں ڈیل کی افواہیں بھی سامنے آئیں، جن میں پیسے اور نوکری کے بدلے معاملہ ختم کرنے کی باتیں کی گئیں، لیکن مدعی فریق نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی۔
عدالت میں صلح نامہ جمع کرانے کے بعد، عدالت نے ملزم جام اویس کو قتل اور اغوا کے مقدمے میں بری کر دیا۔