کراچی (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک کیس کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بالغ عورت کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، جس سے سپریم کورٹ اسے روک نہیں سکتی۔ تاہم عدالت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے یا اس پر زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے یہ ریمارکس کراچی کی اس لڑکی کے والد کی درخواست پر دیے، جس نے مبینہ طور پر مذہب تبدیل کر کے پسند کی شادی کی۔ عدالت نے لڑکی کو سخت سیکیورٹی میں سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم بھی دیدیا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل فل بینچ نے حکم دیا ہے کہ کراچی کے ڈیفنس کے علاقے سے تعلق رکھنے والی بینش نامی لڑکی کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا جائے، جس نے 2021ء میں مذہب تبدیل کر کے پسند کی شادی کی تھی۔
یہ حکم سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیر کے روز لڑکی کے والد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔
بالغ عورت کو مرضی سے شادی کا حق
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے رمارکس میں کہا کہ بالغ عورت کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے، جس سے سپریم کورٹ بھی روک نہیں سکتی۔ تاہم عدالت صرف یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر کے شادی کی ہے یا اس پر جبر کیا گیا ہے۔ عدالت نے بینش کو سخت سیکیورٹی میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر بالغ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو عدالت اسے اپنے والد سے ملنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس نے اپنی رضا سے مذہب تبدیل کر کے شادی کی یا نہیں؟
لڑکی نے کب شادی کی؟
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بینش سمیت اس کی دو بیٹیاں 2021ء میں ملازمت کے لیے گئیں اور واپس نہیں آئیں، جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کی پٹیشن دائر کی گئی، جہاں پولیس نے بتایا کہ ایک لڑکی بینش نے مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کر لیا اور محمد علی نامی شخص سے شادی کر لی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے مذہب تبدیل کر کے شادی کرنے کی بنیاد پر اغوا کا مقدمہ سی کلاس کر دیا اور دوسری لڑکی گھر واپس آ گئی، لیکن شادی کرنے والی لڑکی بینش کی اس کے والد یا کسی بھی رشتہ دار سے ملاقات نہیں کرائی گئی، جس پر ملاقات کروانے کا حکم دیا جائے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کراچی کے علاقے ڈیفنس میں رہتی تھی۔ وہ اور اس کی بہن ایک نجی چینل میں کام کرتی تھیں، جہاں ان کی محمد علی نامی شخص سے دوستی ہوئی، جس کے بعد 2021ء میں دونوں کے اغوا کا کیس درج کروایا گیا۔ بعد میں پتا چلا کہ بینش نے محمد علی سے پسند کی شادی کر لی ہے، جس کے باعث اغوا کا کیس سی کلاس کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے لڑکی کو عدالت میں پیش کرنے کے حوالے سے موقف دینے گے گریز کیا۔