ٹرمپ پیوٹن تکرار بھارت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

فہرستِ مضامین

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی جمعہ تک کی پابندیوں کی ڈیڈلائن کے آگے جھکنے کا امکان نہیں رکھتے، اور وہ اب بھی یوکرین کے چار علاقوں پر مکمل قبضے کا ہدف رکھتے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ نے ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر پیوٹن یوکرین میں جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوتے، تو وہ روس پر نئی پابندیاں عائد کریں گے اور ان تمام ممالک پر 100 فیصد ٹیکس (ٹیرف) لگائیں گے جو روسی تیل خریدتے ہیں، جن میں سب سے بڑے خریدار چین اور بھارت ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ اسی وجہ سے میں بھارت کی جانب سے امریکا کو دی جانے والی ٹیرف کو نمایاں طور پر بڑھا رہا ہوں۔

بھارت کو نشانہ بنانا غیر معقول

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے قومی مفادات اور اقتصادی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ بھارت کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور غیر معقول ہے۔بھارت، ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود، روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ سے روس پر نئی پابندیاں اور روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف نافذ کریں گے، جب تک ماسکو یوکرین کی ساڑھے تین سالہ جنگ کو ختم کرنے کے اقدامات نہیں کرتا۔ تاہم، صدر پیوٹن نے اب تک کوئی عوامی لچک یا پالیسی میں تبدیلی ظاہر نہیں کی۔

جب سے روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، مغرب نے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ماسکو سے فاصلہ اختیار کرے، مگر نئی دہلی نے اپنے تاریخی تعلقات اور معاشی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے اس دباؤ کو مسترد کیا ہے۔

ٹرمپ نے جولائی میں پہلے ہی بھارت کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا، اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مختلف جغرافیائی سیاسی مسائل امریکا–بھارت تجارتی معاہدے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے برکس ممالک کے ایک گروپ کو بھی امریکا کا مخالف قرار دیا ہے، جسے ان ممالک نے رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ اپنے رکن ممالک اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔

خام تیل خریداری

بھارت، روس سے سمندر کے ذریعے خام تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ جنوری سے جون 2025 کے دوران، بھارت نے یومیہ تقریباً 1.75 ملین بیرل روسی تیل درآمد کیا،جو گزشتہ سال سے 1 فیصد زیادہ ہے۔

بھارتی ترجمان نے کہا جب یوکرین جنگ شروع ہوئی تو روایتی سپلائی یورپ منتقل ہو گئی، لہٰذا بھارت کو روسی تیل خریدنا مجبوری بن گئی، یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ مغربی ممالک جو بھارت پر تنقید کر رہے ہیں، خود بھی روس سے تجارت میں ملوث ہیں۔”

انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری ہے، نے امریکہ، کینیڈا اور مشرقِ وسطیٰ سے 7 ملین بیرل خام تیل خریدا ہے، چار تجارتی ذرائع نے بتایا۔

بھارت کی ناراضگی

بھارت اس بات پر بھی ناخوش ہے کہ ٹرمپ نے بھارت،پاکستان سیزفائر کا کریڈٹ خود لیا، جس کا اعلان انہوں نے مئی میں سوشل میڈیا پر کیا تھا، حالانکہ یہ اقدام دونوں ممالک کے باہمی فیصلے کا نتیجہ تھا۔

واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے بھارت پروگرام کے سربراہ، رچرڈ روساؤ کے مطابق ٹرمپ حکومت کی غیر یقینی پالیسی دہلی کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ بھارت کو سمجھ نہیں آتا کہ امریکا، روس سے متعلق اگلے مہینے کیا مؤقف اپنائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں