کراچی ( ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کے باضابطہ آغاز کردیا، پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کے احتجاج کے بعد پارٹی کے ایک رہنما اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عمران خان توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق کیس میں5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، ان پر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دیگر مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں۔
عمران خان نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی، جو ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے کے موقع پر آج اپنے ’عروج‘ پر پہنچنا تھی، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ 5 اگست احتجاج کا نقطۂ آغاز ہے، مگر اسے ’آخری کال‘ نہ سمجھا جائے۔
پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ریحانہ ڈار جیسی بزرگ خاتون کو پنجاب پولیس جس طرح گھسیٹ رہی ہے، وہ انتہائی شرمناک منظر ہے۔
ریحانہ ڈار گرفتار
پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ریحانہ ڈار کو دکھایا گیا، پولیس اہلکار انہیں وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں، ریحانہ ڈار 2024 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے مسلم لیگ (ن) کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف امیدوار تھیں۔
تحریک انصاف نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اخلاقیات اور شرافت کے تمام اصول روند چکے ہیں اور پستی کے نئے درجے تک گر گئے ہیں۔

پی ٹی آئی بہاولپور کے اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں احتجاج کرنے والے اس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پارٹی کی طرف سے شیئر کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو پولیس وین میں سوار ہوتے وقت فتح کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پولیس اہلکار لاٹھیوں سے لیس نظر آئے۔
پی ٹی آئی ملتان نے الزام لگایا کہ لاہور میں اس کے جلسے پر پولیس نے ’حملہ‘ کیا، جس میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیئر کی گئی تصاویر میں ایک گاڑی کی پچھلی کھڑکی کو ٹوٹا ہوا اور اس میں سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔
اسد قیصر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پنجاب اور کشمیر میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی پنجاب میڈیا سیل کے سربراہ شیان بشیر نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تقریباً 200 چھاپے مارے اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لیا، جنہیں مبینہ طور پر حلف نامے جمع کروانے کے بعد رہا کیا گیا۔
سندھ میں بھی احتجاج
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سندھ کے مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، کراچی میں پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، پولیس نے مختلف علاقوں سے 50 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
نوابشاہ میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی آزادی کے لیے ریلی نکالی گئی، لاڑکانہ کے شہر رتودیرو میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریلی نکالی اور عمران خان کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔
موٹر وے کی بندش
تحریک انصاف کی احتجاج کے باعث مختلف جگہوں پر موٹرویز پر بھی ٹریفک کی آمدورفت میں خلل آیا ہے، پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے پر صوابی انٹرچینج کو شام 5 بجے سے دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔