عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت تحریک انصاف کے 9 اراکین اسمبلی نااہل قرار

فہرستِ مضامین

 الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف  کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا ہے، نااھل ہونے والے اراکین میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز بھی شامل ہیں۔

منگل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی نااہل قرار دیے گئے اراکین پارلیمان میں شامل ہیں۔

عمر ایوب اور شبلی فراز کے علاوہ جن اراکین کو نااھل قرار دیا گیا ہے، ان اراکین قومی اسمبلی میں زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، رائے حسن نواز اور رائے حیدر علی خان بھی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی محمد انصر اقبال، جنید افضل ساہی اور رائے محمد مرتضیٰ اقبال کو بھی نااہل قرار دیا ہے۔

الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کے مطابق ان ارکانِ پارلیمان کو آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے جس کے تحت سزا یافتہ شخص پارلیمان کا ممبر نہیں رہ سکتا۔

عدالتوں سے سزائیں

خیال رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران فیصل آباد، سرگودہا اور لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے نو مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد سرکاری املاک پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے الزامات ثابت ہونے پر تحریک انصاف کے درجنوں رہنماؤں، اراکین پارلیمان اور کارکنوں کو سزائیں سنائی تھیں۔

جمعرات کو فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ سُنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔

کیس کیا تھا؟

یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سُنایا گیا تھا جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئی تھیں۔

تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کے نااہل ہونے کے بعد اب الیکشن کمیشن ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد کرے گا اور اس ضمن میں انتخابی شیڈول جلد جاری کیا جائے گا۔

اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رُکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو سزائیں سُنائی گئی تھیں۔

ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ بھی دس، دس برس قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں