یوکرین میں پاکستانی شہریوں پر روس کے ساتھ مل کر جنگ لڑنے کا الزام، پاکستان کی تردید

فہرستِ مضامین

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان نے روس اور یوکرین کے تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے سے متعلق یوکرینی صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم یوکرین تنازع میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یوکرینی حکام نے اب تک کوئی قابلِ تصدیق ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یوکرین کی حکومت نے اس سلسلے میں پاکستان کو کسی بھی قسم کی اطلاع نہیں دی۔ پاکستانی حکومت اس معاملے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یوکرین تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔”

یوکرینی صدر زیلنسکی کے الزامات

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوموار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں کئی ممالک کے جنگجو روس کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری اگلی محاذ پر لڑنے والے کمانڈروں سے گفتگو ہوئی ہے، جنہوں نے بتایا کہ روس کی طرف سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہمارے خلاف محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔”

صدر زیلنسکی کے مطابق جنگی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور کچھ افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو بھی یوکرین کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔

پاکستان سے یوکرین کو اسلحہ بھیجنے کے الزامات

میڈیا رپورٹس، جن میں 2023 میں بی بی سی کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو نجی امریکی کمپنیوں کے ساتھ 364.6 ملین ڈالرز مالیت کے اسلحہ کی فروخت کا معاہدہ کیا، جس کے تحت یہ اسلحہ مبینہ طور پر یوکرین بھیجا گیا۔

ان الزامات کی پاکستان کی وزارت خارجہ، اُس وقت کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور روسی سفیر البرٹ پی خورےف نے بھی سختی سے تردید کی تھی۔

یوکرینی صدر زیلنسکی اس سے قبل روس پر چین کے جنگجو بھرتی کرنے کے الزامات بھی لگا چکے ہیں، جن کی چین کی حکومت نے سختی سے تردید کی تھی۔اسی جنگ کے دوران شمالی کوریا پر بھی ایسے ہی الزامات لگے کہ اس نے ہزاروں فوجی روس کے کورسک علاقے میں تعینات کر دیے ہیں۔

روس یوکرین جنگ کا پس منظر

روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان یہ جنگ 24 فروری 2022 کو اس وقت شروع ہوئی، جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی فوج کو یوکرین پر حملے کا حکم دیا۔

یہ جنگ پاکستان میں اس وقت خاصی زیر بحث آئی، جب روس کے یوکرین پر حملے کے وقت پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سرکاری دورے پر روس میں موجود تھے۔

بعد ازاں اپریل 2022 میں اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں