( ویب ڈیسک ) غزہ کے وسطی علاقے میں چار ٹرکوں کے ہجوم پر الٹنے سے کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق پیش آیا۔
منگل کی شام دیر البلح کے جنوب مشرقی علاقے میں لوگ سڑک پر موجود ٹرکوں کی طرف دوڑے اور ان پر چڑھ گئے، جس سے ڈرائیوروں کا گاڑیوں پر قابو نہ رہا۔
مقامی صحافیوں کا حوالے دیتے ہوئے برطانوی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ اس وقت علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں تھا اور سڑکیں ناہموار اور خطرناک تھیں۔
سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ خراب راستوں کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ غزہ میں کام کرنے والی نجی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ منگل کو 26 تجارتی ٹرک علاقے میں داخل ہوئے، جن میں سے 6 کو لوٹ لیا گیا۔ ان میں سے 4 ٹرک الٹ گئے، جن کے نتیجے میں یہ ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
مزید 135 فلسطینی شہید
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 135 فلسطینی شہید اور 771 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں تیزی آئی ہے، ان حملوں میں کم از کم 135 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 87 وہ افراد شامل ہیں جو امداد کے منتظر تھے۔ اس کے علاوہ 771 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 193 ہو گئی ہے، جن میں پچھلے 24 گھنٹوں میں 5 نئے کیسز شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں فلسطینی امداد کے منتظر تھے کے اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کردی، جس میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہوگئے۔
اقوام متحدہ کی کلینک پر بمباری
ایک طرف اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینوں کا خون بہا رہی ہے تو دوسری جانب ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
منگل کے روز غزہ شہر میں اقوامِ متحدہ کے ایک کلینک پر بمباری کی گئی، جس سے وہاں موجود مریضوں اور عملے کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔
ہسپتال کے عملے کا بتانہ ہے کہ الشفاء اسپتال غزہ کا سب سے بڑا اسپتال ہے مگر یہاں خون کی شدید قلت ہے، یہاں پر روزانہ کی بنیاد پر لاشوں اور زخمیوں کو لایا جاتا ہے۔
جنگ کے باعث غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی شدید قلت ہے، جو انسانیت سوز بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری جنگ بندی اقوام متحدہ اور دیگر ادارے فوری امدادی رسائی کو یقینی بنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔