دھمکیوں سے درخواست تک، ٹرمپ اور پیوتن جلد ملاقات کرینگے

فہرستِ مضامین

ماسکو ( ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کی ملاقات طئہ ہوگئی ہے، دونوں عالمی رہنماوں کے درمیاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقات متوقع ہے۔

آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ روز قبل اپنے بیان میں دھمکی دی تھی صدر پیوتن یوکرین روس جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے تو وہ روس سے تیل خرید کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کریگا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکیوٹو آرڈر بھی جاری کردیا تھا، جس کے بعد بھارت پر امریکا کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف 50 فیصد ہوگیا ہے۔

منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے روس کے صدر پیوتن سے ملاقات کی تھی، جس کی تصویر بھی جاری کی گئی تھی۔

امریکا کی درخواست

روس کے صدارتی ہاوس کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ “امریکی جانب کی درخواست پر، دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات پر مؤثر طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بدھ کے روز امید ظاہر کی تھی کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ جلد مشترکہ اجلاس منعقد کریں گے۔ ٹرمپ نے ماسکو کو خبردار کیا ہے کہ اگر جمعہ تک جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا، تو روس کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اوشاکوف کا کہنا تھا کہ تین فریقی اجلاس کی تجویز اس ہفتے ماسکو میں امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ وٹکوف کی یہ پیوٹن سے پانچویں ملاقات تھی۔تاہم روس کی جانب سے ممکنہ تین فریقی اجلاس پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا۔

یورپ کی شمولیت پر زور

دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ممکنہ تین فریقی اجلاس کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ملاقاتوں سے نہیں گھبراتا اور روسی فریق سے بھی اسی جرات مندانہ رویے کی توقع رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہونے والی بات چیت میں ’’دو دوطرفہ اور ایک تین فریقی‘‘ فارمیٹ پر غور کیا گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں یورپ کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب، جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے متعدد بار ماسکو کے دورے کیے، تاہم اب تک جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

صدر ٹرمپ نے بھی اس جمود کا اعتراف کرتے ہوئے کہا میں اسے بریک تھرو کو بڑی پیش رفت  نہیں کہتا ہم کافی عرصے سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ ہزاروں نوجوان اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، میں یہاں اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہوں۔

امن معاہدے کی امیدیں کم

کریملن نے امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کی حالیہ ملاقاتوں کو “تعمیری” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں فریقین نے “اشارے” کا تبادلہ کیا ہے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ ان کی صدر ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، جس میں یورپی رہنماؤں سے مشاورت بھی شامل تھی۔

اگرچہ تین فریقی اجلاس کی کوششیں جاری ہیں، لیکن یہ توقع کم ہی ہے کہ ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے پہلے کوئی امن معاہدہ طے پا سکے گا۔ روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ 24 فروری 2022 کو اُس وقت شروع ہوئی جب روس نے یوکرین پر مکمل فوجی حملہ کیا۔ اس دن روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے “خصوصی فوجی آپریشن” کا اعلان کیا، جس کے فوراً بعد روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر زمینی، فضائی اور بحری حملے کیئے گئے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں