علی ظفر کی گورنر ہائوس میں پرفارمنس منسوخ کریں: عورت مارچ کا مطالبہ

فہرستِ مضامین

کراچی (بیورو رپورٹ) عورت مارچ کی طرف سے گورنر ہائوس کراچی میں جشن آزادی کی تقریب میں نامور سنگر علی ظفر کو مدعو کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان عورت مارچ کراچی کی جانب سے جاری اعلامئے میں کہا گیا ہےکہ گورنر ہاوس کراچی میں جشن آزادی کی تقریب میں علی ظفر کی شرکت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان عورت مارچ کا کہنا ہے کہ علی ظفرپرنہ صرف ہراسانی کے سنگین الزامات عائد ہیں، بلکہ ان پر متاثرین کی حمایت میں آواز اٹھانے والوں کو دھمکانے کے بھی الزامات ہیں۔

علی ظفر پر خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات ہیں

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علی ظفر  کے خلاف متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن میں متاثرین کو انصاف کا انتظار ہے۔ترجمان عورت مارچ کراچی نے کہا کہ گورنر ہاؤس اور ریاست کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے دعوے محض دکھاوا ہیں۔

ترجمان عورت مارچ نے سوال کیا کہ کیا کسی بھی ہراساں کرنے والے شخص کو یوم آزادی کی تقریب میں مدعو کرنے سے وہاں موجود خواتین محفوظ ہو جائیں گی؟ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو سرکاری تقریبات میں پروموٹ کیوں کیا جارہا ہے؟

ترجمان عورت مارچ نے  مطالبہ کیا کہ گورنر ہاوس میں علی ظفر کی پرفارمنس فوری منسوخ کی جائے اور آئندہ تمام سرکاری تقریبات میں ان کی شرکت  پر پابندی لگائی جائے۔

ترجمان عورت مارچ نے کہا کہ  گورنر سندھ تمام پاکستانی خواتین سے معافی مانگیں کہ انہوں نے ایک مبینہ ہراساں کرنے والے  شخص کو پلیٹ فارم دیا۔

مقبول سنگر علی ظفر کے خلاف اداکارہ  میشا شفیع  سمیت مختلف خواتین کی طرف سے انہیں ہراساں کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، جن کی وہ پبلک خواہ عدالتوں میں بھی تردید کرتے رہے ہیں۔

علی ظفر کے کیرئر پر ایک نظر

علی ظفر گلوکار اور  موسیقار کے علاوہ اچھے ایکٹر،سانگ رائیٹر اور پینٹر بھی ہیں۔2003 میں وہ اپنے گانے ‘چھنو’ کی وجہ سے مقبول ہوئے۔

 انہوں  نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کے علاوہ بالی ووڈ میں بھی کام کیا اور اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑے، خوب پئسہ اور شہرت کمائی۔علی ظفر نے  تیرے بن لادن،میرے بھائی کی دلہن،لندن پیرس نیویارک اور دیگر فلموں میں کام کیا۔

فن کی دنیا میں خدمات سرانجام دینے پر انہیں لکس اسٹائل ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈز سمیت متعدد ایوارڈز کے ساتھ بھی نوازا گیا۔

علی ظفر نے مقبول البمز رلیز کرنے کے علاوہ پاکستان میں بولی جانے والی مقامی زبانوں میں بھی گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔ ان کا سندھی گیت ‘الے منہنجا ماروئڑا’ بھی بہت مقبول ہوا۔

علی ظفر نے سندھی کے علاوہ پشتو، بلوچی، سرائکی اور شینا زبانوں میں بھی گیت گائے، جو ملک بھر میں پسند کیے گئے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں