ملکی دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، ڈیم بھرگئے، سیلاب سے متعلق الرٹ جاری

فہرستِ مضامین

ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں، گلیشیئرز پگھلنے اور سیلاب کے بعد دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تربیلا اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح دریائے جہلم اور دریائے چناب کے اہم مقامات پر پانی کی صورتحال فی الحال معمول کے مطابق ہے، تاہم نالہ پلکھو کینٹ میں نچلے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ دریائے راوی میں پانی کے بہاؤ معمول کے مطابق ہیں مگر بسنتر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کیا گیا ہے۔

ڈیمز کے حوالے سے ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم 98 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 68 فیصد بھر چکے ہیں۔ تربیلا ڈیم کا لیول 1547.94 فٹ اور منگلا ڈیم کا لیول 1211.15 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شہری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ دریاؤں کے کناروں پر موجود آبادیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے کناروں پر سیر و تفریح سے گریز کریں، والدین اپنے بچوں کو کسی بھی صورت دریاؤں یا نالوں کے قریب نہ جانے دیں۔ ہنگامی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال

سندھ میں کئی روز تک پانی کی سطح کم رہنے کے بعد پانی کی سطح دوبارہ بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔

پانی کی سطح بڑھنے کے بعد گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کیا گیا ہے۔

گڈو بیراج پر پانی کا اپ اسٹریم بہاؤ 2 لاکھ 59 ہزار 948 کیوسک اور ڈائون اسٹریم بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار 299  کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

سکھر بیراج پر پانی کی سطح   میں کمی آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کا اپ اسٹریم بہاؤ ایک لاکھ 93 ہزار 344 کیوسک اور ڈاون اسٹریم کا بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار  124 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

کوٹری بیراج پر بھی پانی کی سطح میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

کوٹری بیراج پر پانی کا اپ اسٹریم بہاؤ 85 ہزار 841 کیوسک اور بہاوٴ 54 ہزار 626 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

مرزا نہر میں شگاف کے باعث فصیل زیر آب

شمالی سندھ کے ضلع شکارپور کے قصبے رستم کے قریب مرزا واہ میں 20 فٹ شگاف پڑنے کے باعث  چاول کی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔

محکمہ آبپاشی کا عملہ اطلاع کے باوجود نہیں پہنچا تو مقامی لوگوں اور کاشتکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی شگاف بند کردیا، لیکن کچھ  گھنٹوں کے بعد واھ میں ایک بار پھر شگاف پڑ گیا۔

شگاف کے باعث علاقے کی تقریباً ایک ایکڑ اراضی زیر آب آگئی ہے۔

علاقہ مکینوں اور کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اطلاع کے باوجود آبپاشی ٹیم ابھی تک نہیں پہنچی اور سیلابی پانی مزید فصلوں کو ڈبوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔

مقامی لوگ شگاف کو دوبارہ  بند کرنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت کوششیں کر رہے ہیں۔

کاشتتکاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کو نہ روکا گیا تو ان کی فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔

مسو پہوڑ کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ رات گئے مرزا واہ میں 20 فٹ کا شگاف پڑا تھا، جسے ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت بند کیا تھا، اب دوبارہ اسی مقام پر شگاف پڑ گیا ہے۔

علاقہ مکینوں اور کاشتکاروں نے محکمہ آبپاشی کے حکام اور ڈپٹی کمشنر شکارپور سے اپیل کی ہے کہ شگاف بند کرنے کے لیے عملہ اور مشنری بھیجی جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں