خیبرپختونخوا میں سیلاب سے اموات کی تعداد 377 تک جا پہنچی، وزیراعظم کا متاثرین کو تنہا نہ چھوڑنے کا وعدہ

فہرستِ مضامین

بونیر  ( ویب ڈیسک ) پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 377 تک ہو گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

پراونشل ڈزاسٹر مئنیجمینٹ اتھارٹی نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے ہونے والی جانی اور مالی نقصانات سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 377 ہوگئی ہے، جبکہ 182 زخمی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد میں 294 مرد، 50 خواتین اور 33 بچے شامل ہیں، 145 مرد، 27 خواتین اور دس بچے زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے بتایا کے ہالیہ بارشوں اور کلائوڈ برسٹ سے 1377 مکانات مکمل تباہ ہوئے، جبکہ 1022 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ اضلاع کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا، وزیراعظم نے سیلاب متاثرین میں چیک بھی تقسیم کیے۔

بونیر میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں 700 امواد کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2022ء میں سیلابی کے دوران دردناک صورتحال دیکھی۔

2022 کے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 2022ء میں صوبوں کو امداد کی مد میں 100 ارب روپے تک دیے، انہوں نے تجاوزات کے خلاف کارروایوں کا بھی حکم دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تجاوزات کی روک تھام کے لیے سخت پالیسی اپنانی ہوگی، پاکستان کو سیلابی صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا بھی سامنا ہے، اگر ہم انسانی ذمہ داری پوری نہیں کررہے تو ہمارا ہی نقصان ہوگا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے سیلاب زددہ علاقوں سوات، بونیر، شانگلہ اور صوابی کا فضائی جائزہ لیا۔

سیلاب متاثرین کی مدد اولین ترجیح ہے

دوسری جانب وزیراعظم  ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف عاصم منیر نے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعینات افواج، پولیس اور سول انتظامیہ سے ملاقات کی۔

فیڈل مارشل نے اہلکاروں کی بے لوث خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اولین ترجیح ہے، کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو انتہائی جذبے اور محنت کے ساتھ جاری رکھا جائے ، متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم کی جائیں۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ فورسز اور سول ادارے اپنی انتھک خدمات جاری رکھیں، شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ان کی امداد اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

خیبرپختونخوا میں سیلاب

خیال رہے کے خیبرپختونخوا میں کچھ روز قبل ہونے والے مون سون بارشوں اور کلاؤڈ برسٹس نے بیچ وقت شدید فلش سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا۔

بارشوں، کلائوڈ برسٹ اور فلش سیلاب سے بونیر، سوات، باجوڑ، شانگلا اور مانسہرہ اضلا شدید متاثر ہوئے، سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا، جہاں 228 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثر علاقوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں