تل ابیب ( ویب ڈیسک ) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں 60,000 ریزرو فوجی طلب کرے گی کیونکہ وہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے، حالانکہ اس دوران ثالث جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جنگ گزشتہ 22 ماہ سے جاری ہے۔
بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کے چند انتہائی گنجان آباد علاقوں میں کارروائی شروع کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
یے منصوبہ اسرائیل فوج کے سربراہ نے پیش کیا تھا، جس کے حت 60,000 ریزرو فوجیوں کو طلب کیا جائے گا جبکہ مزید 20,000 ریزرو فوجیوں کی خدمات کی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ وہاں کی زیادہ تر آبادی پہلے ہی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے، علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور قحط کے خطرے کے دوران بھوک سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شہری بدترین حالات کے لیے تیار رہیں
غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کے اس نئے مرحلے میں غزہ شہر اور اس کے اطراف میں تدریجی، درست اور ہدفی کارروائیاں کی جائیں گی، جن میں کچھ ایسے علاقے بھی شامل ہوں گے جہاں پہلے فوج داخل نہیں ہوئی تھی۔

اس اہلکار کے مطابق، فوج نے ابتدائی مرحلے کے طور پر زیتون اور جبالیہ کے علاقوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شہری بدترین حالات کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل غزہ کے سب سے بڑے شہر پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر لاکھوں افراد کو جنوبی غزہ کے “ارتکاز زونز کی طرف بے دخل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے مشرقی غزہ شہر میں گھروں کی قطاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور حملے گنجان آباد علاقوں میں شدت اختیار کر چکے ہیں۔
الجزیرہ نے اپنے رپورٹرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ رات مکمل طور پر بے چین رہے کیونکہ اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیاروں نے آسمان کو گھیرے رکھا، اور گھروں اور عارضی کیمپوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
رپورٹر نے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر بھی کیا کہ جنوبی غزہ میں اسرائیل کی طرف سے محفوظ زون قرار دیے گئے علاقے المواسی میں ایک باپ نے اپنے بچوں کو ایک فضائی حملے میں کھو دیا۔
جنگبندی کی کوشش
اسرائیل کا حملوں میں شدت لانے کا منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطر اور مصر کی قیادت میں، امریکہ کی حمایت سے، جنگ بندی کے لیے نئی ثالثی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس تازہ منصوبے کے تحت 60 دن کی جنگ بندی، مرحلہ وار قیدیوں کا تبادلہ، اور امداد کی فراہمی کو وسعت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔قطر کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ معاہدہ تقریباً اسی جیسا ہے جیسا اسرائیل نے پہلے قبول کیا تھا، جبکہ مصر نے زور دے کر کہا کہ اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس مجوزہ منصوبے پر ابھی تک کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، انہوں نے اصرار کیا تھا کہ کسی بھی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ اور ہماری شرائط کے مطابق رہا کیا جائے، اور جنگ کا اختتام اسی صورت ممکن ہوگا۔
حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے کہ ہم نے معاہدہ طے پانے کے امکان کے دروازے کھول دیے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیتن یاہو ایک بار پھر اسے بند کر دیں گے، جیسا کہ وہ پہلے کر چکے ہیں
مزید 35 فلسطینی شہید
دوسری جانب طبی ذرائع کے مطابق، بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 35 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 10 وہ افراد بھی شامل تھے جو امداد کے حصول کی کوشش کر رہے تھے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے نتیجے میں کم از کم 62,064 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو مستند مانتی ہے۔